اسلام آبادکچی آبادیوں کے انخلاء کے خلاف ہزاروں افراد کا سابق وفاقی وزیر جے سالک کی سربرہی میں احتجاج ریلی
personشہر اقتدار
مارچ 24, 2026
0
share
کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کے موجودہ طریقہ کار کے مطابق ان بستیوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے جے سالک
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سیکٹر H-9 میں قائم کچی آبادیوں کے انخلاء کے خلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں مرد، خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اپنے گھروں کے تحفظ کے حق میں شدید نعرے بازی کی اور حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔احتجاجی ریلی کی قیادت سابق وفاقی وزیر اور ورلڈ مینارٹی الائنس کے کنوینئرجے سالک
نے کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ H-9 کچی آبادی کے مکینوں کو بے دخل کرنے کا فیصلہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے بھی منافی ہےانہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک میں بسنے والی کمزور اور کم آمدنی والی آبادیوں کا مشترکہ مسئلہ ہے
مسیحی برادری سمیت دیگر متاثرہ طبقات کا واضح مطالبہ ہے کہ کچی آبادیوں کے انخلاء کا عمل فوری طور پر روکا جائے اور کسی بھی قسم کی بے دخلی نہ کی جائےانہوں نے مزید کہا کہ 1995 کے کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کے موجودہ طریقہ کار کے مطابق ان بستیوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے اس لیے انخلاء کے بجائے ریگولرائزیشن کے عمل پر غور کیا جانا چاہیےجے سالک نے
زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی انہدام یا بے دخلی سے قبل متاثرہ افراد کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کی جائے انہوں نے کہا کہ اچانک کارروائیوں اور جبری بے دخلی کے اعلان نے ہزاروں خاندانوں کو شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہےمظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر بغیر کسی منصوبہ بندی کے انخلاء کیا گیا تو ہزاروں خاندان بے گھر ہو جائیں گے جس کے
سنگین سماجی اور انسانی نتائج برآمد ہوں گے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کم آمدنی والے شہریوں کے لیے باقاعدہ ہاؤسنگ پالیسی بنائی جائے تاکہ ایسے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیے جا سکیںاحتجاج کے دوران ایک عوامی چرچ میں خصوصی دعائیہ تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے دعا کی گئی اور حالات میں بہتری کے لیے اجتماعی طور پر اللہ سے مدد طلب کی گئی۔
جے سالک نے تجویز پیش کی کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے جس میں حکومتی نمائندوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ کمیونٹی کے افراد اور سماجی رہنما بھی شامل ہوں۔ یہ کمیٹی باہمی مشاورت سے ایک قابلِ عمل اور انسانی بنیادوں پر حل تجویز کرے تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ متاثرہ افراد ریاست کے ساتھ
کھڑے ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیںتاہم ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بے یار و مددگار نہ چھوڑےمظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ اسلام آباد کے دیگر علاقوں تک پھیلا دیا جائے گا اور یہ تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔