google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 نوا سٹی کے متاثرین، ارشد حسین کی قیادت میں پنڈی نیب عدالت کے باہر احتجاجی مظاہرہ

نوا سٹی کے متاثرین، ارشد حسین کی قیادت میں پنڈی نیب عدالت کے باہر احتجاجی مظاہرہ

0
اسلام آباد(ملک راشد نزیر)نووا ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین اور ممبران نے نیب میں کھلی کچہری کے موقع پر شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود نہ انہیں پلاٹس دیے گئے اور نہ ہی سوسائٹی میں خاطر خواہ ترقیاتی کام کیا گیامتاثرین نے حکومت، فاٹا اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا متاثرین کے نمائندے نے


 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال قبل لوگوں نے اپنی جمع پونجی، زیورات اور زندگی بھر کی کمائی نووا ہاؤسنگ سوسائٹی میں اس امید کے ساتھ لگائی کہ انہیں قانونی اور محفوظ رہائشی منصوبہ ملے گا، مگر آج تک ہزاروں ممبران کو نہ پلاٹس ملے اور نہ ہی ترقیاتی کام نظر آرہے ہیںانہوں نے کہا کہ نووا ہاؤسنگ سٹی کے پاس فاٹا سے منظور شدہ تقریباً 970 کنال کا لے آؤٹ پلان موجود ہے، جس میں رہائشی اور کمرشل ملا کر صرف 1300 پلاٹس بنتے ہیں، جبکہ ہزاروں فائلیں فروخت کرکے لوگوں سے کروڑوں روپے وصول کیے گئے ان کا کہنا تھا کہ “جب کل پلاٹس ہی محدود ہیں تو ہزاروں ممبران کو پلاٹس کیسے دیے جائیں گے؟”متاثرین کے مطابق دسمبر 2024 سے فروری 2026 تک سوسائٹی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل مذاکرات، میٹنگز اور رابطے کیے گئے، جن میں متعدد یقین دہانیاں کرائی گئیں، مگر عملی طور پر نہ زمین مکمل کی گئی، نہ ترقیاتی کام شروع ہوا اور نہ ہی فاٹا کے۔

 منظور شدہ ماسٹر پلان کے مطابق ڈیویلپمنٹ کی گئی انہوں نے بتایا کہ 12 فروری 2026 کو فاٹا (پنجاب ہاؤسنگ اینڈ اربن پلاننگ ایجنسی) میں باضابطہ درخواستیں جمع کروائی گئیں، تاہم شکایات کے ازالے کے بجائے متاثرین پر 50، 50 کروڑ روپے کے ہرجانے کے مقدمات دائر کر دیے گئے ان کا کہنا تھا کہ “یہ ظلم کی انتہا ہے کہ لوگ اپنی زندگی کی جمع پونجی


 لگائیں، پلاٹ بھی نہ ملے اور اوپر سے اربوں کے دعوے بھی کر دیے جائیں”متاثرین نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں گڈ گورننس صرف دعووں تک محدود ہے جبکہ ریگولیٹری ادارے عوام کے تحفظ کے بجائے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے سہولت کار بن چکے ہیں انہوں نے کہا کہ فاٹا نے تین ماہ تک متاثرین کو مختلف یقین دہانیوں میں الجھائے رکھا، حالانکہ پنجاب ہاؤسنگ رولز 2020 کے رول 32، 33 اور 34 کی کھلی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے مطابق ہر الاٹی کے


 ساتھ رجسٹرڈ معاہدہ ہونا چاہیے، مگر نووا ہاؤسنگ میں ایسا نہیں کیا گیا سوسائٹی اپنی مرضی کی شرائط نافذ کرتی ہے، من مانے چارجز لگاتی ہے اور ممبرشپ منسوخی کی صورت میں بھاری کٹوتیاں کرتی ہے، جبکہ ریگولیٹری ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیںمتاثرین نے اعلان کیا کہ نووا انتظامیہ اور فاٹا سے مایوس ہونے کے بعد اب نیب ان کی آخری امید ہے انہوں نے نیب حکام سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کو فوری پلاٹس دلوائے جائیں یا منافع اور معاوضے کے ساتھ رقوم


 واپس کروائی جائیںانہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری پر اعتماد بحال رکھ سکیں ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو عوام اپنی سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو جائیں گےمتاثرین نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی آواز حکام بالا تک پہنچا رہے ہیں تاکہ ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !