اسلام آباد میں “معرکۂ حق” سیمینار، قومی اتحاد اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین
personشہر اقتدار
مئی 12, 2026
0
share
دفاعِ پاکستان اور قومی یکجہتی کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان قبائل موومنٹ پارٹی اور دفاعِ پاکستان کونسل کے زیرِ اہتمام “معرکۂ حق” کے عنوان سے اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی، سماجی اور قبائلی شخصیات نے شرکت کی سیمینار کا مقصد قومی یکجہتی، ملکی دفاع، قبائلی عوام کے مسائل اور موجودہ قومی و علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنا
تھاسیمینار سے مہمانِ خصوصی سینیٹر منظور خان کاکڑ، مرکزی سیکرٹری جنرل بلوچستان عوامی پارٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “معرکۂ حق، بنیان مرصوص” قومی اتحاد اور پاکستان کے دفاعی عزم کی علامت ہے انہوں نے پاک فوج، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور
پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے تمام قومی اداروں کا کردار قابلِ ستائش ہےپاکستان قبائل موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا اسداللہ حقانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے تمام طبقات کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ہمیشہ ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور “معرکۂ حق، بنیان مرصوص” اس کی واضح مثال ہے۔انہوں نے پاک فوج اور اس کی قیادت کو سلامِ
عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء اور قبائلی عوام کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، باہمی ہم آہنگی اور عوامی شعور وقت کی اہم ضرورت ہیںاس موقع پر پاکستان قبائل موومنٹ (PQM) کی مرکزی قیادت میں محمد نظیر جمال کوچی، حبیب اللہ خان، مطیع اللہ، عبدالرحمان رحیمی اور ملک حاجی محموداللہ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر اتحاد، مضبوط قیادت اور عوامی بیداری ناگزیر
ہےشرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے دفاع، امن اور ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا، جبکہ قبائلی علاقوں کی ترقی، نوجوانوں کے مسائل کے حل اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی سیمینار کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن و استحکام اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔