پنجابی آرگنائزیشن کا اسلام آباد میں احتجاج، بلوچستان میں پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ
personشہر اقتدار
اگست 04, 2025
0
share
اسلام آباد:
پنجابی آرگنائزیشن کے صدر مرزا سلیم الیاس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں پنجابی شہریوں کے قتل میں ملوث دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) جیسے گروہوں کے سیاسی ونگز پر بھی فوری پابندی عائد کی جائے۔مرزا سلیم الیاس نے یہ مطالبات اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیے، جہاں ان کے ہمراہ پنجابی آرگنائزیشن لائرز ونگ کے صدر ندیم پنجابی ایڈووکیٹ، انسانی حقوق پارٹی کے چیئرمین خالد آفتاب سلہری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
اہم مطالبات:بی ایل اے کے خلاف فوجی کارروائی اور تنظیم کا خاتمہاغوا ہونے والے پنجابی افراد کی فوری بازیابیشہداء کے لواحقین کو کم از کم ایک کروڑ روپے فی کس معاوضہجبری نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو گوادر میں دوبارہ آباد کیا جائےبلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے "دہشت گرد گروہوں کے سیاسی ونگز" پر پابندیمرزا سلیم نے کہا کہ اگر ریاست نے ذمہ داری پوری نہ کی تو پنجابی قوم آئندہ کا لائحہ عمل خود طے کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجابی قوم کا صبر جواب دے چکا ہے، اور مزید خاموش رہنا ممکن نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی سازش کر رہا ہے، اور اس کی "پراکسیز" پنجابیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ "یہ ملک لاکھوں پنجابیوں کے خون سے بنا تھا اور ہم پاکستان کو توڑنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے،" انہوں نے کہا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجابی قوم کو اپنی افواجِ پاکستان پر مکمل اعتماد ہے، اور امید ہے کہ ریاستی ادارے پنجابیوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔
مرزا سلیم الیاس نے الزام لگایا کہ گزشتہ روز پنجابی آرگنائزیشن کے دھرنے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن پنجابی قوم آئندہ کسی دباؤ میں نہیں آئے گی۔بلوچستان میں نسلی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ایک حساس مسئلہ بن چکے ہیں۔ ریاستی اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف دہشت گردی بلکہ بین الاقوامی پراکسیز کے خلاف بھی مؤثر اقدامات کریں تاکہ تمام اقوام کو برابر کا تحفظ مل سکے۔