google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 مسنگ پرسنز کے نام پر چند شرپسند عناصر بلوچستان کا خوبصورت چہرہ مسخ کر رہے ہیں، سیاسی و سماجی رہنماء بابرخان

مسنگ پرسنز کے نام پر چند شرپسند عناصر بلوچستان کا خوبصورت چہرہ مسخ کر رہے ہیں، سیاسی و سماجی رہنماء بابرخان

0

 اسلام آباد: بلوچستان کے سیاسی و سماجی رہنماء بابرخان خجک نے کہا ہے کہ مسنگ پرسنز کے نام پر چند شرپسند عناصر بلوچستان کا خوبصورت چہرہ مسخ کر رہے ہیں، یہ کوئی بلوچ عوام کے حقوق کی تحریک نہیں بلکہ ذاتی مفادات کی تحریک ہے،اسلام آباد دھرنے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں،ایمان مزاری،

 سینیٹر مشتاق جیسے انسانی حقوق کے چمپیئن بلوچستان میں بے گناہ پنجابیوں ، بلوچوں اور فورسز کے جوانوں کی شہادت پر کیوں خاموش ہیں،ہم انکے اصل چہرے بے نقاب کرنے آئے ہیں،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں عدنان سلیم اور زاہد محمد حسین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابرخان خجک کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات دن بدن بد سے برتر ہو تے جا رہے ہیں،جہاں  6ماہ کے اندر تقریباً 187 بلوچی لوگ شہید ہوچکے ہیں جبکہ حکومت بلوچستان سو رہی ہےاورعوام کے لیے کوئی کام نہیں کر


 رہیہے،اسلام آباد میں جن لوگوں نے کیمپ لگایا ہے یہ لوگ بی ایل اے اور بی ایل ایف سے تعلق رکھتے ہیں،بلوچستان میں خواتین کی بہت عزت کی جاتی ہے،اسلام آباد کےکیمپ میں بلوچ خواتین کو سامنے رکھا گیا ہے،کیمپ میں موجود لوگ ریاست سے ٹکراؤ چاہتے ہیںان لوگوں نے بلوچستان میں اپنی ہی عدالت قائم کی ہوئی ہیںبی ایل اے تنظیم لاپتہ افراد کو قتل کر رہے ہیں،بلوچستان حکومت کو شہداء کی فیملی کی مدد کریں،بی ایل اے لوگ سیاست کرنے پر قتل کر رہے اور اگر ہم

 شہداء کی بات کریں تو حکومت کی جانب سے دہشتگردی کا مقدمہ کر دیا جاتا ہے،بلوچستان میں بی ایل اے تنظیم کے لئے جو سہولتکار نہیں بنتا اس کو قتل کر دیا جاتا ہے،حکومت بلوچستان شہداء کی فیملی کی کوئی مدد نہیں کر رہے اور زخمیوں کو کوئی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں،بلوچستان میں اسرائیل کے فٹ پرنٹ بھی موجود ہیں،بلوچستان میں ایک طبقہ  کی طرف سےپنجابی زبان بولنے والوں کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا جاتا ہےاس موقع پر عدنان سلیم نے کہا کہ بلوچستان میں پاک فوج کے جوانوں کو شہید کر دیا جاتا ہے۔بلوچستان میں روزگار کے لیے آنے والے لوگوں کو بھی شہید کر دیا جاتا ہےبلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف

 ورزیاں کی جا رہی ہےبلوچستان میں ٹرین کو اغوا کر کے لوگوں کو شہید کر دیا جاتا ہے،ماہرنگ لانگو کہتی ہیں کہ ان کے والد کو ریاست نے قتل کیا ہے،ماہرنگ لانگو کا والد بھی ایک دشتگرد تھا ماہرنگ بلوچ کے والد کی تصویریں دیکھے تو سب معلوم ہو جائے گاماہرنگ بلوچ کا بھائی بلوچستان میں سرکاری ملازم ہے،ماہرنگ بلوچ کو اور ان کی بہنوں کو ریاست نے ڈاکٹر بنانا ہے،دنیا  میں کوئی ایسا دھرنا نہیں ہوتا جس میں شہریوں کو شامل نہیں ہونے دیا جاتا،بلوچستان کی



 حفاظت کرنے والے کی حمایت کرنے والوں کوٹاؤٹ کہا جاتا ہے،ایمان مزاری ریاست کے خلاف بات کرتی ہیںایمان مزاری ہندوستان کی بہت بڑی ٹاؤٹ ہے، ریاست پاکستان کے خلاف جہاں بھی گفتگو ہو رہی ہوتی ہے ایمان مزاری وہاں ہوتی ہیں،ایمان مزاری انسانی حقوق کی بات تو کرتی ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتی،سینٹر مشتاق بھی آج بلوچوں کے دھرنے میں موجود ہیں، سینٹر مشتاق بی ایل اے سے ڈرتے ہیں یا انکی حمایت کرتے ہیں، بی ایل اے کے کمانڈر نے کہا ہے بلوچستان کے بعد لاہور اور دیگر علاقوں میں بھی اس طرح کی کارروائیاں کریں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !