اسلام آباد (قاسم منیر)اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا کی جانب سے محکمہ ایکسائز کے دفتر کے باہر اچانک کارروائی کرتے ہوئے 6 ٹاؤٹس کو گرفتار کرنا، بظاہر ایک مستحسن قدم ہے۔ تصاویر بھی جاری ہوئیں، حوالات کی جھلک بھی دکھائی گئی اور سوشل میڈیا پر خوب واہ واہ ہوئی۔ مگر اصل سوال وہی پرانا ہے:
کیا یہ کارروائیاں کسی دیرپا تبدیلی کی جانب قدم ہیں، یا محض وقتی پبلسٹی کا ذریعہ؟
پرانا مسئلہ، نیا ڈرامہ؟
ایکسائز، پاسپورٹ، نادرا، یا دیگر سرکاری دفاتر کے باہر موجود ایجنٹ کسی فلمی منظر نہیں بلکہ ایک "معمول" کی تصویر ہیں۔ ان کے بغیر شاید یہ دفاتر ادھورے دکھائی دیں۔ ہر کچھ عرصے بعد انہی ایجنٹوں کے خلاف "کریک ڈاؤن" کی خبریں آتی ہیں، مگر عوام جانتے ہیں کہ یہ صرف چہرہ دکھانے کی مشق ہے۔ اگلے ہی دن وہی چہرے، وہی دھندہ، اور وہی سسٹم دوبارہ جاری ہو جاتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ٹاؤٹس کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ وہ کیوں درکار ہیں؟
اگر کوئی شہری بغیر کسی "سہولت کار" کے خود اپنے کاغذات یا گاڑی کی رجسٹریشن کا کام کروانے کی کوشش کرے، تو اسے ایک طویل، تکلیف دہ اور اکثر توہین آمیز عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ پیچیدہ طریقہ کار، عملے کا غیر تعاون، بار بار کی تاریخیں، اور معلومات کی کمی — یہ سب مل کر عام آدمی کو ایجنٹ کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
ایجنٹ سسٹم کے باہر نہیں، اندر کا حصہ ہیں
یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں کہ دفاتر کے اندر کا عملہ ان ایجنٹوں کے ساتھ رابطے میں ہوتا ہے۔ فائلوں کو "چلانے" کے لیے یہی افراد کڑی کا کام کرتے ہیں۔ عوام سمجھتے ہیں کہ اگر کام جلدی چاہیے، تو بغیر ایجنٹ کے ممکن نہیں — اور یہ تصور بلاوجہ نہیں۔
حل کدھر ہے؟
اگر واقعی حکومت اور ضلعی انتظامیہ اس لعنت کا خاتمہ چاہتی ہے، تو محض گرفتاریاں اور تصاویر کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ:
-
دفاتر میں خدمات کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے
-
ہر شہری کو آن لائن اپائنٹمنٹ، پراسیس ٹریکنگ اور شکایت درج کروانے کی سہولت حاصل ہو
-
اندرونی کرپشن پر بھی کارروائی ہو، صرف باہر کے ایجنٹوں پر نہیں
-
دفاتر کے باہر روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ ہو، نہ کہ صرف میڈیا کے لیے ہفتہ وار سرپرائز وزٹ
ورنہ؟
ورنہ یہ ایک اور نمائشی دورہ تھا۔ ایک اور "تصویر"، ایک اور "پوسٹ"، اور ایک اور فائل جو بغیر ایجنٹ کے کبھی مکمل نہیں ہو پائے گی۔

