اسلام آباد (رپورٹ):
وفاقی دارالحکومت میں واقع وزارتِ ثقافت اُس وقت ہنگامہ خیز صورتحال کا شکار ہو گئی جب وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی اور ان کے قریبی ساتھی ڈائریکٹر محمد بلال پر نائب قاصد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کا سنگین الزام سامنے آیا۔
ذرائع کے مطابق، واقعہ اس قدر سنگین تھا کہ وزارت کے تمام افسران و ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کر دیا، دفاتر کو تالے لگا دیے گئے اور کوہسار بلاک کی پوری عمارت کی بجلی بند کر دی گئی۔
احتجاج کی شدت، مطالبات واضح
احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک کام پر واپس نہیں آئیں گے جب تک:
تشدد کے ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے
متاثرہ ملازم کو تحفظ، علاج اور انصاف فراہم نہ کیا جائے
ملازمین کے ساتھ محفوظ اور باعزت ماحول کی فوری ضمانت نہ دی جائے
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف وزیر اور ان کے ڈائریکٹر کو معطل کیا جائے بلکہ واقعے کی غیرجانبدار عدالتی تحقیقات بھی کی جائیں۔
طاقت کے ناجائز استعمال پر سوالات
یہ واقعہ نہ صرف وزارتِ ثقافت بلکہ مجموعی طور پر بیوروکریسی اور سرکاری اداروں میں طاقت کے غیر ضروری استعمال اور نچلے درجے کے ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کے رجحان پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
سرکاری حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ بحث شدت پکڑ رہی ہے کہ کیا وزارتیں اور وزرا اب بھی جاگیردارانہ مزاج اور طاقت کی سیاست سے باہر نہیں نکلے؟
حکومتی خاموشی تشویش ناک
اب تک وزیر یا ان کے دفتر کی جانب سے کسی قسم کی وضاحت یا معذرت سامنے نہیں آئی، جبکہ حکومت کی اعلیٰ سطح پر بھی واقعے پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس خاموشی نے ملازمین میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
نتیجہ:
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جب تک سرکاری دفاتر میں طاقت کا استعمال بے لگام رہے گا، اور نچلے درجے کے ملازمین کو تحفظ نہیں ملے گا، اس طرح کے واقعات صرف خبروں کی زینت نہیں، بلکہ اداروں کے زوال کی علامت بنے رہیں گے۔

