اسرائیلی افواج کی وسطی غزہ میں وحشیانہ بمباری، مزید 5 فلسطینی شہید، 33 زخمی
personشہر اقتدار
اگست 09, 2025
0
share
غزہ (بین الاقوامی ڈیسک) — اسرائیلی افواج کی جانب سے وسطی غزہ میں جاری ظالمانہ بمباری کا سلسلہ نہ تھم سکا، جس کے نتیجے میں مزید 5 فلسطینی شہید اور 33 زخمی ہو گئے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق، یہ حملہ نصیرات کیمپ کے شمالی علاقے پر کیا گیا، جہاں رہائشی آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، غزہ کے نیصاری چوراہے کے قریب اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے دو فلسطینیوں کو شہید اور ایک کو شدید زخمی کر دیا۔ موقع پر موجود افراد کے مطابق، فائرنگ بلااشتعال کی گئی، جو اسرائیلی فوج کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کا واضح ثبوت ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کو جبری انخلا کا حکم دے دیا ہے، جس سے خدشہ ہے کہ فوجی آپریشن کو وسعت دی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں مستقل امن کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ایران نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ اس کی نسل کشی کی نیت کا ثبوت ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، اسرائیل فلسطینی عوام کو ان کے آبائی علاقوں سے ختم کرنے کی سوچی سمجھی سازش کر رہا ہے، جو عالمی برادری کی بے حسی سے مزید تقویت پا رہی ہے۔
غزہ کے عوام بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، مگر افسوسناک طور پر عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر بمباری، پانی و خوراک کی قلت، اسپتالوں کی تباہی، اور لاکھوں افراد کی جبری نقل مکانی ایک ایسے المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جسے دنیا نظرانداز کر رہی ہے۔