غیر قانونی تعمیرات اور جنگلات کی کٹائی کو روکا جائےo
personشہر اقتدار
ستمبر 19, 2025
0
share
راولپنڈی/مری (نامہ نگار) — اورسیز شہری و لمبردار جاوید اقبال عباسی نے اپنی جدی اراضی اور موضع ڈنہ آوائن کی شاملات سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریکارڈ میں غیر قانونی اندراجات اور تضادات سامنے آئے ہیں جنہیں فوری درست کرنے کی ضرورت ہے۔
جاوید اقبال عباسی کے مطابق واجب الرض کی کاپی میں واضح درج ہے کہ مسیاڑی سے سلکھیتر تک کی شاملات مقامی لوگوں کی ملکیت ہے اور یہ ریکارڈ بحریہ ٹاؤن سلکھیتر کیس میں بھی پیش کیا جا چکا ہے، جس میں صاف لکھا ہے کہ 1,211 ایکڑ شاملات سلکھیتر کے لوگوں کی ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ 1886 میں ڈنہ آوائن سے حکومت کو دی گئی زمین کا اصل رقبہ آج تک کیوں واضح نہیں کیا جا رہا؟ انہوں نے کہا کہ مثل حقیقت چار بنیادی چیزوں (شجرہ نسب، واجب الرض، رجسٹرڈ حقدران زمین اور شجرہ عکس) پر مشتمل ہوتی ہے لیکن پٹواری حضرات نے ان کے کیس میں ریکارڈ کو مسخ کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ کھیوٹ نمبر 40 اور 56 میں 1905 کے بعد نوتوڑ کیے گئے، جن میں کھیوٹ نمبر 40 کا کل رقبہ 1,228 کنال تھا لیکن آج صرف 377 کنال کا ریکارڈ موجود ہے اور باقی زمین غیر قانونی اندراجات کے ذریعے منتقل کر دی گئی۔ متاثرین کے مطابق جعلی اندراجات کی بنیاد پر بعض افراد نے زمین کو رہن رکھ کر مختلف بینکوں سے بھاری قرضے بھی حاصل کیے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ شفاف تحقیقات کر کے جعل سازی کے ذریعے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اصل مالکان کو ان کا حق دلایا جائے۔ جاوید اقبال عباسی نے مزید کہا کہ غلط اندراجات کی وجہ سے ان کے گاؤں کے کئی خاندان اپنی جدی زمین سے محروم ہو گئے ہیں۔ ایک پتی ہست خان کو مکمل طور پر ریکارڈ سے خارج کر دیا گیا، جس کے وارث آج انگلینڈ میں مقیم ہیں۔ اسی زمین پر کالسنگڑا کے علاقے میں تعمیرات جاری ہیں اور لاکھوں روپے مالیت کے درخت کاٹ دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیوٹ نمبر 56 کو درست نوتوڑ کے بعد کھیوٹ نمبر 103 بنایا گیا جو ان کے والد محمد یوسف کی جدی ملکیت ہے۔ اس پر 1976 اور 2011 میں عدالت سے ڈگریاں بھی مل چکی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، جبکہ آج اسی زمین پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز تعمیر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کا ریکارڈ درست نہ ہونے کے باعث جنگلات کو نقصان پہنچا اور سرکاری خزانے کو بھی مالی خسارہ اٹھانا پڑا۔ محکمہ جنگلات کی 2010 کی رپورٹ میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ مکمل ریکارڈ موجود نہیں، اس صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ رپورٹ کس بنیاد پر تیار کی گئی؟ جاوید اقبال عباسی نے الزام لگایا کہ چند روز قبل پولیس کو جھوٹی درخواست دے کر ان کے کزن صادق کو بلاوجہ تھانے طلب کیا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق صادق کو درخواست کی کاپی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنا دفاع پیش کر سکے۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ میرٹ پر فیصلے کرے اور موقع پر جا کر حقائق دیکھنے کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کروائے۔ انہوں نے صدر پاکستان، وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جدی زمین کا ریکارڈ درست کیا جائے، غیر قانونی تعمیرات اور جنگلات کی کٹائی کو روکا جائے اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ اورسیز پاکستانیوں کو بھی انصاف مل سکے۔