google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 کچی آبادیوں اور وینڈگ کارڈز سے محروم نہیں کرنا چاہیے، بے دخلی کا سلسلہ جاری رہا تو ناانصافیوں کے خاتمے کیلئے سی ڈی اے آفس کے باہر دھرنا دینگے،عوامی ورکرز پارٹی کےرہنماءعاصم سجاد اختر،

کچی آبادیوں اور وینڈگ کارڈز سے محروم نہیں کرنا چاہیے، بے دخلی کا سلسلہ جاری رہا تو ناانصافیوں کے خاتمے کیلئے سی ڈی اے آفس کے باہر دھرنا دینگے،عوامی ورکرز پارٹی کےرہنماءعاصم سجاد اختر،

0

 اسلام آباد(خصوصی نمائندہ)عوامی ورکرز پارٹی کےرہنماءعاصم سجاد اختر، عالیہ امیر علی ودیگر نےمطالبہ کیا ہے کہ کچی آبادیوں کے باشندوں کو ان کے موجودہ رہائشی مقامات پر ریگولرائز کیا جائے یا قانون کے مطابق دوبارہ آباد کیا جائے،سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس والےلوگوں کی ریڑھی تک بھی نہیں چھوڑتے ، غریب لوگوں سے انکے سر سےچھت بھی چھینی جا رہی ہےجبکہ اسلام آباد میں بننے والی غیر قانونی سوسائٹیز کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ادارے اپنے اعمال کے لیے کسی بھی قسم کے احتساب سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں، رہائش سب کا بنیادی حق ہے اگر ریاست محنت کش لوگوں کو سستی رہائش اور روزگار فراہم کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو اسے ان کچی آبادیوں اور وینڈگ کارڈز سے محروم نہیں کرنا چاہیے، بے دخلی کا سلسلہ جاری رہا تو ناانصافیوں کے خاتمے کیلئے سی ڈی اے آفس کے باہر دھرنا دینگے،عوامی ورکرز پارٹی کےرہنماءعاصم سجاد اختر، عالیہ امیر علی، راجہ کبیر ثانی، احمد گڈو،پطرس جوزف،میر اعطم، محمد ریاض، رخسانہ قاضی، امانت قاضی و دیگر جن کا تعلق سیکٹر آئی ٹین، آئی نائن، مسلم کالونی بری امام،سیدپور گاؤں،ایچ نائن، علی پور فراش، فرانس کالونی،سوکوارٹرایف سکس، مسکین کالونی جی ایٹ ،مشرف کالونی،علامہ اقبال کالونی جی سیون،مظفر کالونی ایچ الیون کی کچی آبادیوں سے تھا کا نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس نے حال ہی میں غریب اور محنت کش طبقے کے گھروں کے ساتھ ساتھ گلیوں میں ریڑھی بانوں، چھوٹے ہوٹلوں اور دیگر ایسے محنت کشوں کے خلاف نام نہاد انسداد تجاوزات آپریشن کو تیز کیا ہےجب کہ بڑے ریئل اسٹیٹ لوٹ ماروں اور بڑے تاجروں کو غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں اور کمرشل پلازوں کی تعمیر کا مفت




لائسنس دیا ہوا ہے،ڈھٹائی کی یہ طبقاتی جنگ سی ڈی اے آرڈیننس کے تمام اصل قانونی احکامات اور منصوبہ بندی کے اصولوں کے خلاف ہے،سی ڈی اے کے انفورسمنٹ ڈویژن تمام قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے غریبوں کے خلاف بے دخلی کی مہم کی سربراہی کے لیے لاہور سے ایک افسر کو خصوصی طور پہ لایا گیا ہے،عاصم سجاد اختر نے کہا کہ عوام کے مسائل، چھت اور روزگار کی بات کی جائے شہر اقتدار میں شرم کی بات ہے کہ لوگوں کی ریڑھی تک بھی نہیں چھوڑتے اور چھت بھی چھین رہے ہیں اسلام آباد غیر قانونی سوسائٹیز بنی ہوئی ہیں انکو کوئی پوچھنے والا نہیں، لاہور سے ایک آفسر آئی ہے جو چیئرمین سی ڈی اے سے بھی اوپر ہیں وہ ہر چیز کو مسمار کررہی ہیں، 27ویں ترمیم میں بڑے بڑے لوگوں کو استشی دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد کے مزدور، ریڑھی بانوں کی کیوں کوئی بات نہیں کرتا27ویں آئینی ترمیم نے 2015ء کے سٹے آرڈر کی حیثیت کے حوالے سے ایک خامی پیدا کردی ہے جس کا اس وقت سی ڈی اے فائدہ اٹھا رہی ہے، سپریم کورٹ اور نئی قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت سے اپیل کی رہائش سب کا بنیادی حق ہے اگر ریاست محنت کش لوگوں کو سستی رہائش اور روزگار فراہم کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو اسے ان کچی آبادیوں اور وینڈگ کارڈز سے محروم نہیں کرنا چاہیے، جو انہوں نے اپنی محنت سے اور حکام کے تعاون کے بغیر بنائے ہیں،اسلام آباد میں گلی کوچوں اور دیگر محنت کشوں کو روزی کمانے کے آئینی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہےسی ڈی اے باقاعدگی سے سٹریٹ




وینڈروں کی ریڑھیوں کو ضبط کرتا ہے اور ان کے خلاف من مانی پولیس مقدمات درج کیے جاتے ہیں ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے اعمال کے لیے کسی بھی قسم کے احتساب سے مکمل طور پر مستثنی ہیںیہی وجہ ہے کہ محنت کش افراد قانون کی حکمرانی جیسے نعروں سے تقریبا پوری طرح مایوس ہوچکے ہیں ،اے ڈبلیو پی نے جولائی 2015ء میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جب سی ڈی اے اور پھر مسلم لیگ (ن) نے آئی الیون میں 20ہزار سے زیادہ پشتون مکینوں کی آبادی کو بلڈوز کیا اور سپریم کورٹ نے ناصرف اس درخواست پر غور کیا بلکہ مزید کسی بھی جبری مسماری و بے دخلی کے خلاف حکم امتناعی جاری کیاعدالت نے سی ڈی اے اور وفاقی حکومت کو یہ ظاہر کرنے کی ہدایت کی تھی کہ اس کے پاس شہری آبادی کے کم آمدنی والے طبقات کی رہائش کے مطالبات سے نمٹنے کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ ہے لیکن گزشتہ دہائی میں اسلام آباد اور ملک کے





دیگر بڑے شہر، ریئل اسٹیٹ ڈویلپرز، سٹہ بازوں اور زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کے ہاتھوں تیزی سے یر غمال بن گئے ہیں جس کا مطلب غریبوں کے لیے رہائش کا حق مشکل ہوتا گیا ہے،انہوں نےمطالبہ کیا کہ کچی آبادیوں کے باشندوں کو ان کے موجودہ رہائشی مقامات پر ریگولرائز کیا جائے یا قانون کے مطابق دوبارہ آباد کیا جائے ، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بے دخلی کا سلسلہ جاری رہا توکچی آبادیوں کے مکین، ریڑھی بان اور اسلام آبادکے دیگر مزدور طبقے سےکی آبادی اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خاتمے کیلئے سی ڈی اے آفس کے باہر دھرنا دینگے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !