آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام 5 جنوری یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد
personشہر اقتدار
جنوری 05, 2026
0
share
سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آزادی ہند کے اصولوں سے انحراف پورے خطے کو ازسرِنو تقسیم کے عمل سے دوچار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی چھ لاکھ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جا سکتیں اور مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کے لیے اقوام متحدہ کی آخری قرارداد ہی واحد بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر عالمی قراردادیں ایک بہترین روڈ میپ فراہم کرتی ہیں، جموں و کشمیر ایک ناقابلِ
تقسیم وحدت ہے، اور خدانخواستہ اگر کشمیر میں تقسیم کی بنیاد رکھی گئی تو خطے کی کئی دیگر ریاستیں بھی تقسیم کے عمل سے گزر سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن، سیاسی اور مذاکراتی حل کے بغیر پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری ممکن نہیں، اور پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے بغیر جنوبی ایشیا کا مستقبل ہمیشہ خطرات کی زد میں رہے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے رہنما ایڈووکیٹ مرزا شفیق جرال نے کہا کہ 5 جنوری کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی یاد دہانی کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام سات دہائیوں سے اپنے بنیادی اور تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جسے عالمی برادری مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ مرزا شفیق جرال نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد ہیں، مگر بھارت ان پر عملدرآمد سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔
انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اور قیادت نے ہمیشہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی ہے، اور یہ حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق نہیں مل جاتا۔ انہوں نے کہا کہ بنیان مرصوص نے خطے میں دفاعی طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں کر دیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس توازن میں مزید بہتری اور پائیداری پیدا ہوتی جائے گی۔
مرزا شفیق جرال نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر جب بھی بات چیت ہو، تو 5 اگست 2019 سے پہلے والی پوزیشن بحال کی جانی چاہیے۔ انہوں نے 40 لاکھ بھارتی باشندوں کی کشمیر میں آبادکاری کو کسی صورت قابلِ قبول قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی ہند کے اصول، قرارداد الحاقِ پاکستان، تحریک آزادی کشمیر، کشمیر بنے گا پاکستان اور عالمی قراردادوں تک کا سفر ایک ہی منزل، یعنی تکمیلِ پاکستان کی نشاندہی کرتا ہے۔
تقریب کی صدارت سابق صدر مسلم کانفرنس مرزا محمد شفیق جرال ایڈووکیٹ نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض معروف قانون دان سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ نے انجام دیے۔
سیمینار سے مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل میڈم مہرالنساء، حریت رہنما شیخ عبدالمتین، میجر سردار نصراللہ خان، میڈم شمیم علی ملک، ساجد قریشی ایڈووکیٹ، عاصم زاہد عباسی، راجہ ذکی جبار اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا