“بدلتی عالمی بساط سفارتکاری، طاقت اور مفادات کا نیا کھیل”
personشہر اقتدار
اپریل 21, 2026
0
share
تحریر
عالمی سیاست ایک بار پھر تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے کی عکاسی کر رہی ہے جہاں سفارتکاری عسکری حکمتِ عملی اور معاشی مفادات ایک دوسرے میں گندھتے جا رہے ہیں حالیہ بیانات، خاص طور پر ڈولنڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی پاکستان آمد کا اعلان، اس پیچیدہ کھیل کی ایک نئی کڑی ہےاسی تناظر میں ایک نئی پیش رفت نے اس صورتحال کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق معروف صحافی ماریہ بارتیرومونے فوکس بزنس پر اپنے مارننگ شو میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انہیں بتایا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر آج رات ہی دستخط ہو سکتے ہیں اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف حالیہ کشیدگی میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی طاقتوں کے
درمیان تعلقات میں ایک نیا باب بھی کھول سکتی ہےاگرچہ ایران کی طرف سے محتاط یا حتیٰ کہ انکاری رویہ سامنے آیا ہےلیکن پس پردہ رابطوں اور ثالثی کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر ابھر رہا ہے اسحاق ڈار اور ایرانی قیادت کے درمیان رابطے
اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تاہم، یہ کردار آسان نہیں کیونکہ ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی ہیںجبکہ دوسری جانب ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور سفارتی دباؤ کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھا رہا ہے۔ادھر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور اہم پیش رفت نیتن یاہواور لبنان کے درمیان مجوزہ مذاکرات ہیں جو امریکا میں متوقع ہیں یہ مذاکرات نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو
سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کو بھی نئی سمت دے سکتے ہیں ہنگری کے وزیر اعظم کی جانب سے نیتن یاہو کو گرفتاری کی وارننگ ایک غیر معمولی سفارتی اشارہ ہےجو عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو ظاہر کرتا ہےان تمام تر پیش رفتوں کے درمیان جاپان کا فیصلہ ایک بالکل مختلف مگر نہایت اہم زاویہ پیش کرتا ہےجاپان نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنائے گئے امن پسند آئین کی تشریح میں نرمی کرتے ہوئے مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی ختم کر دی ہے اس تبدیلی کے پیچھے نہ صرف علاقائی سلامتی کے خدشات کارفرما ہیں بلکہ عالمی دفاعی
منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی خواہش بھی شامل ہے لڑاکا طیاروں میزائلوں اور جنگی جہازوں کی ممکنہ برآمد جاپان کو ایک بڑے اسلحہ ساز ملک کے طور پر سامنے لا سکتی ہےیہ فیصلہ ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ممالک اب محض دفاعی پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ دفاعی صنعت کو معاشی ترقی کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیںاسلحے کی دوڑ میں اضافہ نہ صرف علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی نئے چیلنجز پیدا کر سکتا
ہےمجموعی طور پر، دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے ایران امریکا مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور جاپان کی پالیسی میں تبدیلی—یہ تمام عوامل ایک ایسے عالمی نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو تیزی سے تبدیل ہو رہا ہےسوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلیاں استحکام لائیں گی یا ایک نئی غیر یقینی صورتحال کو جنم دیں گی؟ وقت ہی اس کا جواب دے گا، مگر ایک بات واضح ہےسفارتکاری اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور اہم ہو چکی ہے