سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں غیر رجسٹرڈ مدرسے میں 12 سالہ طالب علم کا بہیمانہ قتل — 10 افراد گرفتار، مدرسہ سیل
personشہر اقتدار
جولائی 24, 2025
0
share
سوات (24 جولائی 2025):
خوازہ خیلہ کے علاقے چالیار میں قائم ایک غیر رجسٹرڈ مدرسے میں 12 سالہ طالب علم فرحان کے بہیمانہ قتل اور بچوں پر تشدد کے واقعے نے عوام اور سول سوسائٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات محمد عمر خان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 10 افراد کو گرفتار کرنے اور مدرسہ سیل کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
واقعے میں مرکزی ملزمان قاری محمد عمر، اس کے بیٹے احسان اللہ، مدرسے کے ناظم عبد اللہ اور بخت امین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جن میں سے دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مدرسے سے لاٹھیاں، زنجیریں اور تشدد میں استعمال ہونے والا دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے، جبکہ مدرسے میں موجود 160 بچوں کو حفاظتی اقدام کے تحت ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ڈی پی او سوات نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ضلع بھر میں غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ اوقاف کے ساتھ مربوط اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ادھر گلکدہ کے ایک اور مدرسے میں تشدد کے ایک علیحدہ واقعے پر مزید دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، اور اس کیس کی بھی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔سوات پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ یا مشکوک ادارے کی اطلاع فوری طور پر پولیس یا ضلعی انتظامیہ کو دیں تاکہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔