زائرین کے مذہبی حقوق پر قدغن ناقابلِ قبول ہے، حکومت فیصلے پر نظرِثانی کرے — سید نجم عباس نقوی
personشہر اقتدار
جولائی 31, 2025
0
share
وائس آف کاروان سالار پاکستان کے صدر سید نجم عباس نقوی نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیاراتِ مقدسہ اور اربعین جیسے مذہبی فریضوں سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست کی ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ زائرین کو مکمل سیکیورٹی اور سہولیات فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کی جانب سے سیکیورٹی صورتحال کو جواز بنا کر اربعین کے لیے جانے والے زائرین کو روکنا قابلِ مذمت ہے۔ ماضی میں ملک میں دہشتگردی کی سنگین صورتحال کے باوجود یہ قافلے نہیں روکے گئے، تو اب کیوں؟ اگر وفاقی وزیر خود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دہشتگرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں تو وہ زائرین کو تحفظ کیوں فراہم نہیں کر سکتے؟
صدر سید نجم عباس نقوی نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر سے 50 ہزار سے زائد زائرین کے ویزے مکمل ہو چکے ہیں، بسوں اور ہوٹلوں کی بکنگ ہو چکی ہے، اور اس حکومتی فیصلے سے زائرین اور سالاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
اس موقع پر سرپرست اعلیٰ سید زوار حسین شاہ نے کہا کہ زائرین کے قافلے مکمل طور پر تیار ہیں اور وقت کم ہے، حکومت انہیں اپنے مذہبی فریضے کی ادائیگی سے نہ روکے۔ اگر زمینی راستے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند ہیں تو حکومت بائی ایئر سفر کیلئے خصوصی سہولیات، کرایوں میں رعایت اور ٹیکس میں مکمل چھوٹ فراہم کرے۔
رہنما سید فرحت شاہ نے کہا کہ وزیر داخلہ کے حالیہ بیانات شیعہ قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہیں۔ ہم اپنے مذہبی فریضے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے پر فوری نظرِثانی کرے تاکہ ہزاروں زائرین پُرامن طریقے سے اپنا سفر مکمل کر سکیں۔
آخر میں تمام رہنماؤں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی تاکہ زائرین اور ان کے خاندانوں کو ذہنی اور مالی پریشانی سے بچایا جا سکے۔