جمہوریت کے تسلسل اور سیاسی مکالمے کے حق میں آل پارٹیز کانفرنس کو روکنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں راجہ ناصر عباس جعفری
personشہر اقتدار
جولائی 30, 2025
0
share
اسلام آباد (پریس ریلیز): ملک میں سیاسی اختلافِ رائے اور جمہوری مشاورت کی فضا پہلے ہی شدید دباؤ اور سنسرشپ کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں اپوزیشن اتحاد کی جانب سے 31 جولائی اور یکم اگست کو اسلام آباد کے ٹیولپ ہال میں بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کو روکنے کے لیے ریاستی اداروں اور انتظامیہ کی مداخلت نہایت افسوسناک، غیر جمہوری اور قابلِ مذمت ہے۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہوٹل انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر کانفرنس کی میزبانی سے روکنے کی کوشش کی گئی، جو نہ صرف جمہوری اقدار کی نفی ہے بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت حاصل حقِ اجتماع اور آزادی اظہارِ رائے کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں، سیاسی اختلافات کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کو اپنی سرگرمیوں کے انعقاد کی آزادی حاصل رہی
۔ آج اگر یہ بنیادی جمہوری آزادی سلب کی جا رہی ہے، تو یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے غیر جانب دار کردار سے ہٹ کر کسی مخصوص سیاسی بیانیے کی ترویج میں مصروف ہیں۔ جمہوریت کا حسن اختلافِ رائے، مکالمے اور مشاورت میں ہے۔ اگر سیاسی جماعتوں کو ایک جگہ بیٹھ کر قومی مسائل پر گفتگو اور حل تجویز کرنے سے روکا جائے گا، تو یہ ملک کو آمریت نما طرزِ حکمرانی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہو گا۔ ہم حکومت اور ریاستی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کو روکنے سے باز رہیں، اور اپوزیشن کو اس کا قانونی، جمہوری اور سیاسی حق استعمال کرنے دیں۔ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ جمہوریت کی بقا کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ریاست کا مستقبل فکری جبر سے نہیں بلکہ آزاد مکالمے، برداشت اور اختلاف کی گنجائش سے وابستہ ہے۔