راولپنڈی (24 جولائی 2025):
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ "وہ میری اولاد ہیں اور اپنے باپ کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا ان کا حق ہے۔"یہ بات علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جس میں انہوں نے عمران خان کے پیغامات میڈیا تک پہنچائے۔ علیمہ خان کے مطابق، آج توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، مگر خاندان، وکلا اور میڈیا کو جیل میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ "ہم ساڑھے چار

گھنٹے تک اڈیالہ جیل کے دروازے پر انتظار کرتے رہے،" علیمہ خان نے بتایا۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو روزانہ 22 گھنٹے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، ان سے اخبار، کتابیں اور ٹی وی جیسی بنیادی سہولیات بھی چھین لی گئی ہیں، اور صرف آج ایک کتاب فراہم کی گئی ہے۔ علیمہ خان کے مطابق، عمران خان نے اپنے وکیل کو بتایا ہے کہ وہ غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں اور ملک میں آئین و قانون کے بجائے ایک شخص کی مرضی پر سب کچھ چل رہا ہے۔عمران خان نے اپنے وکیل کے توسط سے یہ بھی کہا کہ ملک میں "ڈاکو ڈَفَر الائنس" وجود میں آ چکی ہے، عدلیہ کی آزادی سلب کر دی گئی ہے اور انصاف کا نظام دفن ہو چکا ہے۔ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔انہوں نے پارٹی رہنماؤں علی امین گنڈا پور، بیرسٹر گوہر خان اور سلمان اکرم راجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک بھرپور تحریک شروع کریں تاکہ قانون کی حکمرانی، آئینی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔
علیمہ خان نے حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی وضاحت کی جائے اور ان کی بنیادی انسانی حقوق کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے۔