تحریر عارف روہیلہ
*ڈاکٹر عافیہ صدیقی*
ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک ایسا نام ہے جو ہمارے قومی ضمیر پر آج بھی بوجھ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ وہ عافیہ صدیقی ہیں، لیکن ان اور بے بسی کا کرب اب بھی ہمارے حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ انہیں جس قیمت پر پرویز مشرف اور اس کے حواریوں نے فروخت کیا، وہ قیمتیں انہیں نہ دنیا میں سکون لینے دیں گی، نہ آخرت میں۔عافیہ کی مظلومیت ہماری اجتماعی بے حسی کی علامت ہے۔ جب انہیں امریکہ کے حوالے کیا جا رہا تھا، اس وقت عوام خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ آج ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں، اور یہ سب ہمارے اپنے اجتماعی اعمال کا عکس ہے۔موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ جو چہرے مشرف دور میں اس جرم میں شریک تھے، وہی چہرے آج تک اقتدار کے مزے لوٹتے آ رہے ہیں۔ ان میں فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، چودھری برادران، فروغ نسیم، اسد عمر، شیریں مزاری جیسے افراد شامل ہیں، جو کبھی مشرف کے دست و بازو تھے اور پھر عمران خان کی حکومت میں نمایاں مقام پر فائز رہے۔
ڈاکٹر عافیہ کا ذکر جب ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے آیا تو وزیراعظم عمران خان کی زبان بند ہو گئی، وہ ایک لفظ نہ بول سکے۔ اسی ملاقات کے بعد مسئلہ کشمیر بھی سرد خانے میں چلا گیا۔ جو شخص اپنی بہن جیسی بیٹی کے لیے ایک لفظ نہ بول سکا، وہ مظلوموں کا ترجمان کیسے ہو سکتا ہے؟آج صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف پھر سے اقتدار میں ہیں، عمران خان جیل میں قید ہیں، اور علیمہ خان بلوچ لاپتہ افراد کے کیمپ میں "ہمدردی" کے آنسو بہا رہی ہیں۔ عمران خان کے بچے وہیں امریکہ میں ان کی رہائی کی اپیلیں کرتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں کی مبینہ مداخلت کا الزام وہ اپنی حکومت کے خاتمے پر لگاتے رہے ہیں۔حال ہی میں اسحاق ڈار نے ڈاکٹر عافیہ کی سزا کو جائز قرار دے کر ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا، اور تحریک انصاف کے حامیوں نے سارا دن اسی پر شور مچایا۔ لیکن اصل حقیقت وہی ہے جو صحافی اقرار الحسن نے بیان کی کہ عمران خان اب اسٹیبلشمنٹ کی ٹھکرائی ہوئی محبوبہ ہیں۔ ان کا غصہ نظریاتی نہیں، ذاتی ہے۔اقتدار کی ہوس میں مبتلا ان سیاسی کرداروں کی غیرت صرف اس وقت جاگتی ہے جب انہیں کرسی سے الگ کیا جاتا ہے۔ ورنہ اقتدار ہو یا اپوزیشن، ان کے درمیان کوئی نظریاتی فرق نہیں رہتا۔ حالیہ سینیٹ انتخابات اس کی واضح مثال ہیں، جہاں سب نے ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہاتھ ملا لیا۔ یہی وہ منافقت اور دوغلا پن ہے جو قوم کو مسلسل اندھیروں میں دھکیل رہا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کا مقدمہ ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ پوری قوم کے ضمیر کی عدالت ہے، جہاں ہر خاموشی ایک جرم ہے۔
والسلام
