چک 90 کیس: پولیس کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، جے سالک
personشہر اقتدار
اگست 15, 2025
0
share
"معصوم افراد کی گرفتاری کی کوشش کی گئی تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کریں گے"
اسلام آباد (سٹی رپورٹر)
ورلڈ مینارٹی الائنس کے کنوینئر، نوبل پیس پرائز کے لیے نامزد امیدوار اور سابق وفاقی وزیر جے سالک نے چک 90 کیس میں پولیس کے مبینہ ریاستی تشدد اور غنڈہ گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی پی او ساہیوال نے کیس کو غیر سنجیدگی سے نمٹا کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، اور تمام دہشتگردی کے مقدمات کو واپس لیا جانا چاہیے۔
جے سالک نے یہ بات چک 90 کے متاثرین سے ملاقات کے دوران ساہیوال کے علاقے ہڑپہ کے دورے میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں والوں کا رد عمل فطری تھا کیونکہ یہ سب کچھ اچانک اور پولیس کے غیر ضروری تشدد کی وجہ سے ہوا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معصوم افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو پورا گاؤں گرفتاری دے گا اور وہ خود بھی گرفتاری پیش کریں گے۔ مزید یہ کہ ایک ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
دورے کا آغاز چرچ میں شکرگزاری کی خصوصی دعا سے کیا گیا، جس کا مقصد کسی بڑے نقصان سے بچاؤ کے لیے اجتماعی دعا کرنا تھا۔ ہڑپہ پہنچنے پر جے سالک کا عوام نے بھرپور اور پرجوش استقبال کیا۔ عوام کی خوشی اور حمایت دیدنی تھی۔
جے سالک نے تھانہ ہڑپہ میں ڈی ایس پی افتخار سے بھی ملاقات کی، جہاں انہیں کیس کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک میاں بیوی کے ذاتی مسئلے پر پولیس کی مداخلت اور طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ڈی پی او ساہیوال رانا طاہر رحمان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے معاملے کو سنبھالنے کے بجائے مزید بگاڑ دیا۔
سابق وزیر نے کہا کہ اس قسم کے واقعات پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور اس کی ایک مثال امریکہ کی سینیٹ میں منظور ہونے والی وہ قرارداد ہے جس میں اقلیتوں کے خلاف ظلم پر پاکستان کا نام لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم اس کی عزت چند افراد کے ہاتھوں خراب نہیں ہونے دیں گے۔
ڈی ایس پی افتخار نے جے سالک کو چک 90 واقعے کی شفاف انکوائری کی یقین دہانی کروائی۔
جے سالک نے اپنے دورے کے اختتام پر ساہیوال پریس کلب کا بھی دورہ کیا، جہاں صحافیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے میڈیا نمائندگان سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے میڈیا کے کردار کو سراہا اور کہا کہ میڈیا ہی حقیقی آوازوں کو اجاگر کرتا ہے۔