کسانوں کی حالت زار، سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا مطالبہ — کسان اتحاد کا حکومت کو احتجاج اور عدالتی کارروائی کا انتباہ
personشہر اقتدار
اگست 26, 2025
0
share
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)
کسان اتحاد پاکستان کے مرکزی چیئرمین خالد حسین باٹھ نے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فوری مالی امداد دی جائے، ان پر عائد ٹیکسز اور واجبات کو فوری طور پر معاف کیا جائے، اور کھاد و بیج پر سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ وہ اگلی فصل کے لیے زمین پر محنت جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے گندم، کپاس اور چینی کے اسکینڈلز کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تاکہ کسانوں کو انصاف مل سکے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ کسان پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن موجودہ حالات میں وہ شدید معاشی بحران، حکومتی بے حسی اور قدرتی آفات کا شکار ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ سیلاب سے ملک بھر، خصوصاً پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کسان بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں ایکڑ اراضی زیر آب آ گئی ہے، کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور کسان کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے بتایا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران گندم کی قیمت میں ایک ہزار روپے فی من تک اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی ناقص پالیسی اور گندم نہ خریدنے کا فیصلہ ہے۔ حکومت نے کسانوں کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے، لیکن اس کے باوجود کسانوں کو نہ تو کوئی ریلیف دیا گیا اور نہ ہی ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا گیا۔
خالد باٹھ نے الزام عائد کیا کہ حکومت کسانوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے، ان پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں، جس کی ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب سیلاب آتا ہے تو کسان کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، لیکن باقی ایام میں کسان پانی کی بوند بوند کو ترستا ہے۔ کرپٹ سیاستدان اور بیوروکریسی کسی بڑے ڈیم کی تعمیر میں سنجیدہ نہیں، جس کا نقصان براہ راست کسان اور ملکی معیشت کو ہو رہا ہے۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسان پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے، اور ایسے اقدامات اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران کسان اتحاد کے مرکزی صدر میاں عمیر مسعود نے کہا کہ کسانوں کے پاس اب اگلی فصل کاشت کرنے کے لیے پیسے نہیں بچے۔ لاگت پوری نہ ہونے کی وجہ سے کسان شدید مالی دباؤ میں ہے، اور حکومت نے گندم کی قیمتیں لاگت سے بھی کم مقرر کر کے کسانوں کے ساتھ سنگین ناانصافی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان کھاد، ڈیزل، بیج، اور بجلی جیسے بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے اس کی محنت کا معاوضہ نہیں مل رہا۔ چینی، کھاد، اور گندم کے اسکینڈلز نے کسان کی کمر توڑ دی ہے اور حکومت کی خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔کسان رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر کسانوں کو ریلیف نہ دیا تو نہ صرف ملک گیر احتجاج کیا جائے گا بلکہ قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی۔