google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 طاقت کا غلط استعمال ناقابلِ برداشت ہے، انصاف کے تقاضے ہر حال میں پورے ہوں گے، سابق وفاقی وزیر کا دوٹوک مؤقف

طاقت کا غلط استعمال ناقابلِ برداشت ہے، انصاف کے تقاضے ہر حال میں پورے ہوں گے، سابق وفاقی وزیر کا دوٹوک مؤقف

0

 ہڑپہ کے مظلوموں کو مکمل انصاف دلا کر ہی دم لیں گےجے سالک 


ہڑپہ کا وہ مظلوم خاندان جن کے ساتھ پورا گاؤں کھڑا ہوا انکے ساتھ اظہار یکجیتی کرنے جے سالک اپنی بیوی کے ہمراہ پہنچے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)ورلڈ مینارٹی الائنس کے کنوینئر، نوبل پیس پرائز کے لیے نامزد امیدوار، اور سابق وفاقی وزیر جناب جے سالک نے ہڑپہ، ساہیوال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ظلم کا شکار مسیحی برادری سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ہڑپہ کا دوسرا دورہ کیا، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، اور ایک اہم مسیحی کنونشن سے خطاب کیا، جس میں ملک بھر سے اقلیتوں کے رہنما، مذہبی شخصیات اور صحافی شریک ہوئے۔جے سالک




 نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئےکہاہم ایسے معاشرے کے باسی ہیں جہاں مذہبی ہم آہنگی، انسانی وقار، اور انصاف بنیادی اقدار سمجھی جاتی ہیں۔ اگر ان اصولوں کی خلاف ورزی کہیں بھی ہوتی ہے، تو وہ صرف ایک برادری یا علاقے کا مسئلہ نہیں رہتا وہ پوری انسانیت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہڑپہ میں مسیحی برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات قابلِ افسوس ہی نہیں بلکہ ناقابلِ قبول ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ظلم خواہ کسی کے ساتھ ہو، اور ظالم چاہے کسی بھی حیثیت یا عہدے میں ہو، اسے قانون کے کٹہرے




 میں آنا ہوگا۔طاقت کا غلط استعمال صرف فرد کا جرم نہیں بلکہ پورے نظام کی جڑوں کو ہلا دیتا ہے۔ اگر ریاست کے ادارے یا ان سے منسلک افراد کمزور طبقات پر ظلم کریں اور اُنہیں جوابدہ نہ بنایا جائے، تو یہ نظامِ عدل پر بدنما داغ ہے  مذہبی و اخلاقی تناظراپنے خطاب میں جے سالک نے مذہبی دلائل کے ساتھ بھی اپنے مؤقف کو تقویت دی ہم بائبل کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں، جو فرماتی ہیں کہ اعلیٰ حکومتوں کے تابع رہو۔ لیکن یہ وہ حکومتیں تھیں جن میں انبیاء حکمران تھے، جن کے فیصلے


 الہامی عدل پر مبنی ہوتے تھے۔ آج کے جمہوری نظام میں جب طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے، تو عوام ہی اصل حاکم ہیں، اور وہی اعلیٰ اتھارٹی کہلائیں گے۔ اگر عوام ظلم کے خلاف کھڑے نہ ہوں تو یہ جمہوریت نہیں، صرف تماشہ رہ جاتی ہے انہوں نے مزید کہا،کلام مقدس کبھی بھی ظالم کی اطاعت کی تلقین نہیں کرتا۔ بلکہ ہر صفحہ ہمیں مظلوم کا ساتھ دینے، سچ بولنے، اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح بھی انہی کمزور، محروم اور دبے ہوئے طبقات کو نجات کی




 خوشخبری دینے آئے تھے بین المذاہب ہم آہنگی اور اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے جے سالک نے اس موقع پر اسلامی تعلیمات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام سمیت دنیا کا کوئی بھی مذہب ظلم کو پسند نہیں کرتا۔ اسلام نے بھی مظلوم کی حمایت کو عبادت کا درجہ دیا ہے، اور ظالم کو روکنا ایمان کا تقاضا قرار دیا ہے۔ ہم سب کا فرض ہے کہ ظلم چاہے کسی کے ساتھ ہو، اس کے خلاف آواز بلند کریں یہی انسانیت، یہی ضمیر، اور یہی اصل مذہب ہے۔جے سالک نے حکومتِ وقت،





 قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ ہڑپہ میں پیش آنے والے واقعات کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، اور اگر کوئی سرکاری اہلکار اس میں ملوث پایا جائے، تو اُسے سخت سزا دی جائے۔ہم اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا۔ اگر ریاست نے اس موقع پر اپنی ذمہ داری پوری نہ کی، تو اقلیتوں کا اعتماد ناقابلِ تلافی طور پر مجروح ہوگا  کنونشن میں دیگر شرکاء کی تقاریرتقریب میں متعدد مذہبی و سماجی




 رہنماؤں نے شرکت کی جن میں پادری ظفر اقبال، بشپ ابراہام ڈینیئل، پادری نوید کاشف، معروف سماجی کارکن زکی منہاس، اور سینئر صحافی ولسن رضا شامل تھے۔ تمام مقررین نے واقعے کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کو عملی اقدامات کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔اختتامیہ:جے سالک کا مؤقف ایک بار پھر یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی اقلیتیں خاموش تماشائی نہیں، بلکہ اپنے حقوق سے باخبر اور ان کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی جدوجہد، قیادت اور مسلسل کوششیں اس بات کی دلیل ہیں کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا نہ صرف ان کا حق ہے، بلکہ ان کا فرض بھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !