اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) — معاشی بحران کی لپیٹ میں آئی حکومت نے عوام پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ایک بار پھر نان فائلرز کو نشانہ بناتے ہوئے بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس کٹوتی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق، وہ افراد جو ایف بی آر کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں شامل نہیں، اگر وہ یومیہ 50 ہزار روپے سے زائد رقم اپنے بینک اکاؤنٹ سے نکلوانا چاہتے ہیں تو 0.8 فیصد کی شرح سے ٹیکس کٹوایا جائے گا۔ یاد رہے، اس سے قبل یہی ٹیکس 0.6 فیصد تھا، یعنی اب نان فائلرز کے لیے اپنے ہی پیسوں تک رسائی پر مزید جرمانہ لگا دیا گیا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب عوام پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی افراطِ زر سے پریشان ہیں۔ معاشی ماہرین اس فیصلے کو "جبری ٹیکس وصولی" قرار دے رہے ہیں، جو شہریوں کو فائلر بننے پر مجبور کرنے کا ایک غیر منصفانہ حربہ ہے۔
مزید برآں، غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت یا منتقلی پر بھی ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اگرچہ پراپرٹی خریدنے والے کو 1.5 فیصد کا وقتی ریلیف دیا گیا ہے، لیکن فروخت کرنے والے یا جائیداد منتقل کرنے والے پر ہر سلیب میں 1.5 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جو پہلے ہی دباؤ کے شکار مارکیٹ کو مزید جمود کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
حکومتی پالیسی پر معاشی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پالیسیز سے نہ صرف عوام کا بینکنگ نظام پر اعتماد متزلزل ہو گا بلکہ غیر رسمی معیشت کو فروغ ملے گا۔ عوام بینکوں سے پیسہ نکال کر دوبارہ نقدی یا غیر رسمی چینلز کا سہارا لینا شروع کریں گے، جو معیشت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
نان فائلرز کے لیے یہ وقت احتیاط کا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے پیشِ نظر:
-
جلد از جلد اپنی بینک رقوم نکلوا لیں تاکہ اضافی کٹوتیوں سے بچا جا سکے۔اپنی رقم کو کسی محفوظ سرمایہ کاری جیسے سونا، رئیل اسٹیٹ یا دیگر کم رسک اثاثہ جات میں لگائیں۔یا پھر رقم کو محفوظ طور پر نقد رکھیں، تاکہ آئندہ کسی بھی جبری پالیسی کا شکار نہ بننا پڑے۔ساتھ ہی، اگر ممکن ہو تو فائلر بننے کے قانونی تقاضے پورے کریں تاکہ ایسے ٹیکسوں سے مستقل بچا جا سکے۔

.jpg)