google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 پاکستان کے گلیشئرز تیزی سے پگھلنے لگے: بقا کا برفانی بحران شدت اختیار کر گیا

پاکستان کے گلیشئرز تیزی سے پگھلنے لگے: بقا کا برفانی بحران شدت اختیار کر گیا

0

 اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع برفانی گلیشئرز جو نہ صرف قدرتی حسن کا مظہر ہیں بلکہ ملک کی زراعت، آبی وسائل اور توانائی کا اہم ذریعہ بھی ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو پانی کی شدید قلت اور ماحولیاتی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تقریباً 7200 سے زائد گلیشئرز موجود ہیں۔ ان میں بیافو، بالتورو، سیاچن، ہسپر اور پسو جیسے معروف گلیشئرز شامل ہیں، جو دریائے سندھ سمیت کئی بڑے دریاؤں کے بہاؤ کا بنیادی ذریعہ ہیں۔



تاہم، حالیہ رپورٹس کے مطابق، 80 فیصد گلیشئرز تیزی سے پگھلنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی تازہ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 تک گلیشئرز کی برف میں سالانہ 1.2 میٹر تک کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے، اور بعض گلیشئرز اپنی سطح کا 20 سے 25 فیصد حصہ کھو چکے ہیں۔


ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں 1.5 تا 2 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ، خصوصاً شمالی علاقوں میں، گلیشئرز کے غیر معمولی اور غیر موسمی پگھلاؤ کا باعث بن رہا ہے۔ مئی و جون 2025 کے دوران گلگت اور ہنزہ میں شدید گرمی کی لہریں آئیں، جنہوں نے گلیشئرز کو غیر متوقع طور پر متاثر کیا۔


2024–25 کے دوران پاکستان میں 33 سے زائد گلیشئرز ایسے زونز میں داخل ہو چکے ہیں جہاں گلیشئیل لیک آؤٹ فلیش فلڈز (GLOFs) کا شدید خطرہ ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال میں کم از کم 9 بڑے GLOF واقعات رپورٹ ہوئے، جن کے نتیجے میں 12 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں گھروں کی تباہی، زرعی زمینوں کا نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جب کہ ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔

ماحولیاتی ماہرین اور اقوام متحدہ کے ادارے اس صورتحال کو "برفانی بحران" قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے فوری طور پر گلیشئرز کی نگرانی، تحفظ اور ماحولیاتی پالیسیاں مرتب نہ کیں تو آنے والی نسلیں شدید ماحولیاتی اور معاشی بحرانوں سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !