پوٹن کا یوکرین سے امن مذاکرات پر زور، ٹرمپ کی مایوسی "زیادہ توقعات" کا نتیجہ قرار
personشہر اقتدار
اگست 02, 2025
0
share
ماسکو / واشنگٹن (ویب ڈیسک)
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کا پلڑا اب بھی روس کے حق میں ہے اور یہ کہ کسی کو (بالواسطہ طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ) اگر مایوسی ہوئی ہے تو وہ "غیر حقیقت پسندانہ امیدوں" کا نتیجہ ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کا پلڑا اب بھی روس کے حق میں ہے اور یہ کہ کسی کو (بالواسطہ طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ) اگر مایوسی ہوئی ہے تو وہ "غیر حقیقت پسندانہ امیدوں" کا نتیجہ ہے۔ْ
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، صدر پوٹن نے ایک پریس کانفرنس میں سابق صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا:’’اگر کسی کو مایوسی ہے تو وہ ضرورت سے زیادہ توقعات کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک عمومی اصول ہے۔‘‘
مذاکرات کی راہ ہموار؟ روسی صدر نے کہا کہ استنبول میں یوکرین کے ساتھ ہونے والے تین امن مذاکرات کے ادوار میں مثبت پیش رفت ہوئی تھی اور وہ مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ امن قائم کرنے کے لیے تفصیلی اور سنجیدہ بات چیت ضروری ہے، جو پبلک سطح پر نہیں بلکہ پرسکون ماحول میں ہونی چاہیے۔پوٹن کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین میں جاری جنگ کو تین سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور فریقین کسی واضح فوجی کامیابی کے بغیر نقصان اٹھا رہے ہیں۔دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں روسی پالیسیوں کو "مکمل بکواس" قرار دیا اور یوکرین پر حملوں کو "قابل نفرت" کہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے جنگ ختم نہ کی تو چین اور بھارت جیسے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔رین نہیں بلکہ پورے یورپ کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ماسکو اب بھی اپنی شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن روس کی فوجی برتری برقرار ہے۔
تجزیہ: امن یا جمود؟
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، پوٹن کی جانب سے مذاکرات کی بات ایک طرف سفارتی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے، تو دوسری طرف ٹرمپ کی ممکنہ دوبارہ انتخابی فتح کی صورت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی امید بھی ہو سکتی ہے۔تاہم یوکرین اور مغربی اتحادی اس وقت تک مذاکرات پر آمادہ نہیں جب تک روس مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹنے کا واضح عندیہ نہ دے۔