ساشے پاکستان میں مالی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ، ادارہ بانی کے وژن سے ہٹ چکا ہے، چمن حسین
personشہر اقتدار
ستمبر 24, 2025
0
share
اسلام آباد(ملک راشد نزیر)ساشے پاکستان کی اسسٹنٹ منیجر پروگرام اینڈ فنانس چمن حسین نےحکومت پاکستان، ایس ای سی پی، ایف بی آر، ساشےپاکستان بورڈ اور تمام متعلقہ اداروں سے ساشے پاکستان میں سنگین مالی بے ضابطگیوں اور بد عنوانیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ صورتحال ادارے کے فنڈز کی خردبرد اور شفافیت کو سبو تاژ کرنے کی سازش
ہے،ساشے پاکستان کے اکاؤنٹس آفیسر عمر مقصود، اسسٹنٹ منیجر ایچ آر اینڈ آپریشنز سائمہ بشیر ایس ایس ایل کوآرڈینیٹر سائرہ اشرف کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چمن حسین کا کہنا تھا کہ ساشے پاکستان کا قیام 1999 میںعمل میں لایا گیاادارے کے بانی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے معمار ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے جو اسکے تا حیات صدر تھے، ساشے پاکستےان کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وژن کے مطابق شفافیت، دیانتداری، اور خدمت خلق کے اصولوں کے مطابق دہائیوں تک اپنی خدمات سر انجام دیں جسکی بنیاد کرایہ کی آمدن اور اینڈرولمنٹ فنڈ پر تھی،تاہم ڈاکٹر صاحب کے بعد گذشتہ چند ماہ سے
ادارے کو سنگین مالی بدانتظامی ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عملے کو ہراساں کرنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اپریل 2025 میں ادارے کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر دینا خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں غیر متعلقہ افراد کو ادارے کے عملے پر بطور نگران مسلط کیا گیا اور عملے کی توہین کی گئی،مئی اور جون میں ادارے کے اینڈرولمنٹ فنڈ کو غیر قانونی طور پرذاتی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیا گیا،جس پر کمپنی کے سیکرٹری عاطف اور لیگل ایڈوائزر راجہ ظفر خالق نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور پھر کمپنی سیکرٹری عاطف نے استعفیٰ دیدیا جبکہ لیگل ایڈوائزر راجہ ظفر خالق کو نوکری سے برطرف
کر دیا گیا،ذاتی گاڑی کی خریداری کیلئے ادارے کا اکاؤنٹس سے دو کروڑ تیس لاکھ روپے نکوالے گئے جنہیں آڈیٹر اور دیگر ملوث افراد کی مدد سے قانونی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، بعد ازاں یہ فنڈز دوبارہ ادارے کے اکاؤنٹ مین منتقل ہوئے تاہم انہیں پھر ایک جعلی کمپنی کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دیا گیا،اس کے علاوہ غیر حقیقی اور ٹیکس چوری پر مبنی معاہدے کئے گئے، ستمبر مین اکاونٹس آفیسر نے استعفیٰ دیا جسے فوری طور پر منظور کر کے انکے دفتر کے تالے تبدیل کر دیئے گئے،اور
عملے کو دفتر میں داخلے سے روک دیا گیا اور ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے کہ انہوں نے فنانس روم میں داخل ہو کر چوری کی ہے تاہم اسکے کوئی ثبوت پیش نہیں کئے گئے،یہ تمام الزامات ادارے میں ہونے والی کرپشن یکو چھپانے اور مخلص عملے کو زبردستی خاموش کرانے کی کوشش ہے، انہوں نے حکومت سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے ساشے پاکستان کے ؐمعاملے میں شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔