عوامی حقوق کی جدوجہد کو پاکستان مخالف رنگ دینا افسوسناک ہے، نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ
personشہر اقتدار
ستمبر 24, 2025
0
share
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو پاکستان مخالف قرار دے کر اسے بدنیتی سے غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں، بلکہ یہ ایک جمہوری حق ہے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی ترجمان سردار ماجد ارشاد اور سید طاہر حسین ایڈووکیٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نبیلہ ارشاد نے کہا کہ کچھ حلقے 1971 کے ایکٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس پر واقعی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی جماعتیں عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل پیش کرنے کے قابل نہیں رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت امور کشمیر کو ختم کر دینا چاہیے اور کشمیر کونسل بھی اپنا مقصد کھو چکی ہے۔ نبیلہ ارشاد کے مطابق عوامی ایکشن پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ وہ عوامی مسائل پر سنجیدہ موقف رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ طاقت کے زور پر حکومتوں کی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتیں، بلکہ مسئلے کا حل افہام و تفہیم اور مذاکرات سے نکلنا چاہیے۔
اہم نکات:صدر آزاد کشمیر کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے تاکہ عوامی نمائندگی کا حق صحیح معنوں میں ادا ہو سکے۔آزاد کشمیر کا اکنامک سروے ہونا چاہیے تاکہ واضح ہو کہ پاکستان کی جانب سے ملنے والے فنڈز کہاں اور کیسے خرچ کیے گئے۔نبیلہ ارشاد نے موجودہ حکومت کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود حکومت کو عوام کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔انہوں نے سرادر ابراہیم خان، کے ایچ خورشید اور سردار عبدالقیوم خان کی تاریخی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے رہنما ہی حقیقی معنوں میں کشمیر کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں وہی لوگ اسمبلی میں آئیں جو قانون سازی کی اہلیت رکھتے ہوں۔پاکستان اور آزاد کشمیر میں بیک وقت انتخابات کرانے کی تجویز دی، تاکہ جمہوری ہم آہنگی پیدا ہو۔انہوں نے مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کی مخالفت کی اور کہا کہ مہاجرین کو دوبارہ آباد کاری کے لیے سہولیات دی جائیں۔
نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ راولاکوٹ جلسے کا عوامی بائیکاٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام موجودہ حکومتی طرزِ عمل سے مایوس ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حقیقی عوامی قیادت کو سامنے آنے کا موقع دیا جائے تاکہ آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کا پائیدار حل ممکن ہو سکے۔