google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 اسلام آباد میں بلوچ خواتین کا احتجاج، سپر مارکیٹ چوک بند، پریس کلب آنے والےشہریوں اور صحافیوں کو شدید مشکلات

اسلام آباد میں بلوچ خواتین کا احتجاج، سپر مارکیٹ چوک بند، پریس کلب آنے والےشہریوں اور صحافیوں کو شدید مشکلات

0


اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سپر مارکیٹ چوک پر بلوچ خواتین کا احتجاج گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کے حل کی بجائے سیکیورٹی کے نام پر اہم شاہراہیں اور داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ چائنا چوک سے سپر مارکیٹ تک جانے والے مرکزی راستے پر خار دار تاریں لگا کر مکمل بند کیا جا چکا ہے، جب کہ نیشنل پریس کلب کے مین گیٹ کو بھی دو مختلف مقامات سے بند کر دیا گیا ہے، جس سے صحافیوں، شہریوں اور مقامی تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

           ننشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر خار دار تاریں بچھا کر ضلعی اںتظامیہ نے راستہ بلاک کر رکھا ہے    


احتجاجی مقام کے گرد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، تاہم اس سختی کا خمیازہ عوام اور میڈیا نمائندوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد آنے والے صحافیوں، مہمانوں، اور پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کو متبادل، غیر محفوظ اور طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ان کے وقت اور تحفظ دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔

                     پمز ہسپتال کی جانب آنے اور جانے والے راستہ خار دار تاریں رکھ کر بند کیا گیا 



قریبی پی ایس او پیٹرول پمپ بھی ان غیر اعلانیہ بندشوں کا شکار ہو چکا ہے۔ پمپ تک عام رسائی ممکن نہ ہونے کے باعث اس کا کاروبار تقریباً مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا ہے، جس سے روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ وہاں کام کرنے والے متعدد ملازمین کی نوکریاں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے راستوں کو خار دار تاروں سے بند کرنا، عام آمد و رفت کو روک دینا، اور نیشنل پریس کلب جیسے اہم ادارے کی رسائی میں رکاوٹ ڈالنا نہ صرف ناقابلِ فہم ہے بلکہ یہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

                نیشنل پریس کلب اسلام آباد  کے ساتھ پیٹرول پمپ پر ورکرز کام نہ ہونے کے باعث فارغ بیٹھے ہیں



شہری و صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے، مظاہرین کے ساتھ بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کیے جائیں، اور شہریوں کی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے بند راستے فی الفور کھولے جائیں۔


                                چائینا چوک کے طرف سے پریس کلب کی جانب جانے والا راستہ


واضح رہے کہ احتجاج کرنے والی خواتین بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لایا جائے۔تاہم، اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس مسئلے کا کوئی واضح یا پُرامن حل سامنے نہیں آ سکا ہے، اور سیکیورٹی کے نام پر روزمرہ زندگی مفلوج کر دی گئی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !