اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے وفد کا نیشنل پریس کلب کا دورہ، صحافیوں پر پولیس تشدد کی شدید مذمت وفد کی قیادت ندیم افضل چن نے کی، این پی سی کے صدر، سیکرٹری اور پی ایف یو جے سے ملاقات — آزادی صحافت پر حملہ ناقابل برداشت قرار
اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے وفد کا نیشنل پریس کلب کا دورہ، صحافیوں پر پولیس تشدد کی شدید مذمت وفد کی قیادت ندیم افضل چن نے کی، این پی سی کے صدر، سیکرٹری اور پی ایف یو جے سے ملاقات — آزادی صحافت پر حملہ ناقابل برداشت قرار
personشہر اقتدار
اکتوبر 08, 2025
0
share
اسلام آباد (نامہ نگار)
پاکستان پیپلز پارٹی کے تین رکنی وفد نے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن کی قیادت میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ کیا۔ وفد میں پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد اور عائشہ نواز شامل تھیں۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے نیشنل پریس کلب میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے کی گئی پولیس گردی، صحافیوں پر بہیمانہ تشدد اور توڑ پھوڑ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے آزادی صحافت پر سنگین حملہ قرار دیا۔
وفد نے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، این پی سی کے صدر اظہر جتوئی اور سیکرٹری نیئر علی سے ملاقات کی اور حالیہ واقعے کے پس منظر اور تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔
پیپلز پارٹی کا آزادی صحافت کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ:"صحافت اور سیاست لازم و ملزوم ہیں، اور صحافیوں نے ہر دور میں آزادی اظہار رائے اور جمہوریت کے فروغ کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پیپلز پارٹی آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے اور صحافیوں کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی مکمل حمایت کرتی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قومی اسمبلی میں اپنے پارلیمانی لیڈر سے مشاورت کے بعد پریس کلب کے تقدس اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قرارداد پیش کرے گی، تاکہ آئندہ کسی بھی صحافتی ادارے پر پولیس چڑھائی نہ کر سکے۔
“آزادی اظہار پر حملہ، ناقابل قبول ہے” پی ایف یو جے
پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے وفد کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ:"پولیس کا پریس کلب میں داخل ہونا اور صحافیوں پر تشدد ایک خطرناک مثال قائم کرنا ہے، جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو پیش کیے گئے چارٹر آف ڈیمانڈ کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ آئندہ کسی بھی پریس کلب میں پولیس داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔"انہوں نے تجویز دی کہ اس نوعیت کے معاملات کے حل کے لیے وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات و نشریات اور پریس کلب کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ پریس کلب اور صحافیوں کے تحفظ کو قانون کا حصہ بنایا جائے۔
"پریس کلب تمام صحافیوں کا مشترکہ گھر ہے" اظہر جتوئی
این پی سی کے صدر اظہر جتوئی نے پیپلز پارٹی کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ:"نیشنل پریس کلب نہ صرف راولپنڈی اسلام آباد بلکہ گلگت تا کراچی تمام صحافیوں کا نمائندہ ادارہ ہے۔ تمام صحافتی گروپس نے مل کر متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کیا ہے۔ ہم پر حملہ دراصل آزادی صحافت پر حملہ ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔"
"پیس کلب پر حملہ، جمہوری اقدار کی توہین" نیئر علی
سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیئر علی نے کہا کہ پرریس کلب پر پولیس کے حملے سے نہ صرف صحافی برادری بلکہ جمہوریت پر یقین رکھنے والی تمام قوتوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا:"پریس کلب وہ واحد مقام ہے جہاں مظلوم اپنی فریاد سناتے ہیں، اور یہاں اس طرح کی کارروائی کرنا نہ صرف روایات کے خلاف ہے بلکہ ریاستی جبر کی علامت ہے۔"