کراچی، مہران ٹاؤن سیکٹر 6بی میں غیر اعلانیہ آپریشن میں گھروں کی مسماری علاقہ مکینوں کا قبضہ مافیا اور پولیس پر گٹھ جوڑ کا سنگین الزام
personشہر اقتدار
دسمبر 15, 2025
0
share
کراچی. (ملک راشد نزیر) کے علاقے مہران ٹاؤن میں جمعرات کی صبح تقریباً 11 بجے ہونے والی ایک اچانک کارروائی نے درجنوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا علاقہ مکینوں کے مطابق یہ کارروائی نہ تو سرکاری آپریشن تھی اور نہ ہی کسی حکومتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق کی گئی، بلکہ مبینہ طور پر ایک نجی کمپنی کے مالک، مقامی انتظامیہ اور پولیس کے گٹھ جوڑ کے تحت عمل میں لائی گئی عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ کمپنی کے مالک نے پارکنگ کی
جگہ بنانے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے ذریعے پولیس اور انتظامیہ کی مدد حاصل کی جب کارروائی شروع ہوئی تو علاقے کے مرد حضرات روزگار کے سلسلے میں گھروں سے باہر تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ پرائیویٹ افراد گھروں میں داخل ہوئے اور عورتوں اور بچوں کو زبردستی باہر نکال دیا چند ہی لمحوں بعد ہیوی مشینری نے گھروں کو گرانا شروع کر دیا مقینوں کا مؤقف ہے کہ اگر یہ کارروائی واقعی سرکاری آپریشن ہوتی تو پورے علاقے کو
نشانہ بنایا جاتا، مگر صرف ڈی-11 اسٹاپ سے ندی تک ایک مخصوص لائن کو ہی مسمار کیا گیا، جس سے شبہ مزید گہرا ہوگیا کہ کارروائی مخصوص مفادات کے تحت کی گئی مزید یہ کہ مقامی افراد کے مطابق سندھ حکومت یا کسی سرکاری ادارے کا کوئی نمائندہ موقع پر موجود نہیں تھا اور نہ ہی کسی قسم کا سرکاری نوٹس یا وارننگ دی گئی۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی فوری عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو، اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری معاوضہ فراہم کیا جائے
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تشویشناک صورتحال کو اجاگر کرتا ہے کہ کراچی میں قبضہ مافیا کس طرح مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی کے سائے میں متحرک ہے، جبکہ عام شہریوں کی جان و مال محفوظ نظر نہیں آتی