وحید منظر کینوس پر بکھرا ہوا شعورِ کائنات ایک شاہکار فن پارے پر تبصرہ
personشہر اقتدار
جنوری 14, 2026
0
share
از قلم محمد اصغر خان کھوسہ
جب صحافت کا سلطان قلم چھوڑ کر برش تھامتا ہے، تو کینوس پر محض رنگ نہیں بکھرتے بلکہ بصیرت کے موتی رقص کرنے لگتے ہیں۔ جناب وحید منظر صاحب کی یہ تخلیق ان کے باطنی مشاہدے اور صوفیانہ طرزِ فکر کا وہ نایاب اظہار ہے جہاں الفاظ کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور خاموشی بولنے لگتی ہے
تجرید اور حقیقت کا شاہانہ ملاپ
اس فن پارے میں وحید منظر صاحب نے جس طرح م سیاہ و سفید کے درمیانی درجات سے کام لیا ہے، وہ ان کی فنی پختگی کی دلیل ہے۔ یہ رنگوں کی قید سے آزاد ایک ایسی دنیا ہے جو دیکھنے والے کو ظاہری چمک دمک سے ہٹا کر حقیقتِ اشیاء کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ ایک "مصورِ فطرت" کا وہ شاہانہ انداز ہے جو سادگی میں بھی پُرکاری کا جوہر رکھتا ہے
نہ رنگوں کی ضرورت ہے نہ لفظوں کی حکایت ہے
تیری خاموش تصویر ہی کمالِ فن کی آیت ہے
عکس کی فلاسفی اور کائیناتی توازن
تصویر میں پانی کی سطح پر جو عکس دکھائی دیتا ہے، وہ محض سائیہ نہیں بلکہ "عالمِ مثال" کی عکاسی ہے۔ درختوں کی بلندی اور پانی کی گہرائی میں ان کا عکس، انسان کے عجز اور کائنات کے توازن کو ظاہر کرتا ہے وحید منظر صاحب نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف خبروں کے نبض شناس نہیں، بلکہ کائنات کے مخفی اشاروں کے بھی امین ہیں
زمین و آسماں کے درمیاں جو ربطِ باطن ہے
وہ تیرے فن کے آئینے میں کتنا صاف روشن ہے
ادب، صحافت اور مصوری کا سنگم
ایک نامور ادیب اور سینیئر جرنلسٹ ہونے کے ناطے، وحید منظر صاحب کی اس تصویر میں ایک بیانیہ موجود ہےکشتی میں بیٹھا تنہا مسافر دراصل خود آگاہی کا سفر طے کر رہا ہے یہ تصویر ان کے ہزاروں شاگردوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ سچا فنکار وہی ہے جو ہجوم میں رہ کر بھی اپنی تنہائی کو تخلیقی جلا بخش سکےفنی شاہکار کا کمالِ ارفع اس تصویر کا افق، نخلِ بلند کی استقامت اور لہروں کا سکوت—یہ سب مل کر ایک ایسی مثلث تشکیل دیتے ہیں جسے علمِ فن میں "جمالیاتی وحدت" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی نایاب تحریر ہے جو کاغذ پر نہیں بلکہ کینوس پر لکھی گئی ہے، جس کا حرف حرف نور اور لفظ لفظ رنگ ہے
جناب وحید منظر صاحب کا یہ فن پارہ اردو ادب اور فنِ مصوری کی تاریخ میں ایک قیمتی اضافے کے طور پر یاد رکھا جائے گا یہ ایک ایسی میراث ہے جو آنے والی نسلوں کو بتائے گی کہ صحافت کے میدان کا یہ شہسوار، فکر و دانش کے کس قدر بلند منصب پر فائز تھا