اسلام آباد ۔(بیورو رپورٹ)
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک ملازم اورنگزیب جو بطور ڈرائیور خدمات انجام دے رہا ہے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے حاجی کیمپ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں پانی فروخت کر رہا ہے
مقامی ذرائع کے مطابق مدینہ کالونی اور فیصل کالونی سمیت قریبی پرائیویٹ کالونیوں میں سرکاری پانی ٹینکر کے ذریعے سپلائی کیا جا رہا ہے اور اس کے عوض مبینہ طور پر رقم وصول کی جا رہی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شدید پانی بحران کے دوران سرکاری پانی کی فروخت نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے
رہائشیوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے انتظامیہ فوری نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے اور سرکاری پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے دوسری جانب سی ڈی اے کے متعلقہ حکام کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آ سکا شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے تو حقائق سامنے آ سکتے ہیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ حاجی کیمپ روڈ اور گردونواح میں پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا مؤثر نظام وضع کیا جائے تاکہ سرکاری وسائل کا غلط استعمال روکا جا سکے