پاکستان کے عالمی امن کے فروغ میں کردار کودنیا بھر میں سراہا گیا جے سالک
personشہر اقتدار
اپریل 13, 2026
0
share
حکومت سے کچی آبادیوں کے مکینوں کے تحفظ کی اپیل سی ڈی اے کارروائیوں پر جے سالک کا اظہارِ تشویش
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان بھی متاثرملکی سلامتی اور عالمی امن کے لیے خصوصی دعائیں
اسلام آباد(ملک راشد نزیر) سابق وفاقی وزیر جے سالک نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن اور مفاہمتی خارجہ پالیسی کو اپنایا ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے اس کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم کرنے میں پاکستان کا کردار پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہےانہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد کی کچی آبادیوںرمشا مسکین اور مشرف کالو نی میں منعقدہ خصوصی دعائیہ تقریبات کے دوران کیا جن کا
مقصد پاکستان کی سلامتی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے دعا کرنا تھاجے سالک نے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے ان کے مطابق بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے سنگین سیاسی معاشی اور سماجی نتائج برآمد ہو سکتے ہیںانہوں نے مزید کہا کہ اس تنازع میں تمام فریقین کو انسانی مالی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ممکنہ بڑے تصادم کو
روکنے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم عمل ہےاس موقع پر انہوں نے حکومتِ پاکستان، خصوصاً وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کی کہ جس طرح پاکستان عالمی امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے اسی طرح اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے مکینوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائےانہوں نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی جانب سے کچی آبادیوں کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ہی شہریوں کو بے گھر کرنا انسانی حقوق اور ہمدردی کے اصولوں کے منافی ہے ہزاروں خاندانوں کو رہائش سے محروم کرنا ایک سنگین انسانی مسئلہ بن چکا ہےجے سالک نے
خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی سطح پر منفی تاثر پیدا کر سکتے ہیں اور یہ ظاہر ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور داخلی اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہےتقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، امن، اور سیاسی و معاشی استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔