google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 تمباکو ایکسپورٹ پر بھاری ٹیکسوں نے کاشتکار اور برآمد کنندگان مشکلات میں ڈال دیے ۔ارشاد خان

تمباکو ایکسپورٹ پر بھاری ٹیکسوں نے کاشتکار اور برآمد کنندگان مشکلات میں ڈال دیے ۔ارشاد خان

0

تمباکو کی گزشتہ فصل فروخت نہ ہو سکی، نئی فصل کی آمد سے کاشتکار مزید پریشان


اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)تمباکو ایکشن کمیٹی خیبر پختونخوا کے چیئرمین ارشاد خان نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ تمباکو کے شعبے کو درپیش سنگین مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، بصورت دیگر ہزاروں کسانوں اور کاروباری افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے،دنیا بھر میں ایکسپورٹ کو مراعات دی جاتی ہیں اور برآمد کنندگان کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، مگر پاکستان میں تمباکو ایکسپورٹ پر بھاری فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، ایکسپورٹرز کو فی کلو تمباکو پر تقریباً 390 روپے ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر محصولات پیشگی جمع کرانے کا کہا جاتا ہے، جس

 سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے برآمدات تقریباً ناممکن ہو گئی ہیں، اگر حکومت بینک گارنٹی یا پوسٹ ڈیٹڈ چیک جیسے متبادل طریقہ کار متعارف کر دے تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںخبیر پختونخوا کے تمباکو کاشتکارنمائندوں عبدالطیف و دیگرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےتمباکو ایکشن کمیٹی خیبر پختونخوا کے چیئرمین ارشاد خان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں گزشتہ سال کی تمباکو فصل اب تک فروخت نہیں ہو سکی جبکہ نئی فصل بھی مارکیٹ میں آنے والی ہے۔ مایوس کاشتکار مجبوراً تمباکو کو ضائع کر رہے ہیں، جو زرعی معیشت کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا کے اضلاع مردان، صوابی، چارسدہ، بونیر اور مانسہرہ تمباکو کی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں جہاں ہزاروں خاندانوں کا معاشی انحصار اسی فصل پر


 ہے۔حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں، بارشوں اور طوفانوں نے بھی کاشتکاروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔کاشتکار نمائندوں نے الزام لگایا کہ تمباکو بورڈ کی پالیسیوں اور کوٹہ سسٹم میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں، اس سال بعض کمپنیوں نے خریداری کے معاہدے کم کر دئیے جبکہ قیمتوں میں بھی مناسب اضافہ نہیں کیا گیا، جس سے کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔تمباکو کاشتکاروںنےمزید کہا کہ گزشتہ برس پاکستان نے پہلی مرتبہ امریکہ سمیت مختلف ممالک کو تمباکو برآمد کیا اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی تمباکو کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، تاہم موجودہ ٹیکس اور ریگولیٹری نظام اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔پریس کانفرنس میں


 یہ بھی کہا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے حالیہ آل پارٹیز کانفرنس میں اس مسئلے کے حل کی حمایت کی ہے۔ شرکاء کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے نمائندوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ رابطہ کرکے مسئلے کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔مقررین نے زور دیا کہ حکومت، ایف بی آر، تمباکو بورڈ، کاشتکاروں اور صنعت کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ مکینزم تشکیل دیا جائے تاکہ ٹیکس



 وصولی، ایکسپورٹ اور کسانوں کے مفادات میں توازن قائم کیا جا سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو ہزاروں کاشتکار اور کاروباری افراد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے حصول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے حکومت سے اپیل کی کہ تمباکو صنعت کو قومی معیشت کے ایک اہم شعبے کے طور پر دیکھتے ہوئے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ کاشتکاروں، صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کا اعتماد بحال ہو سکے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !