google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 اسلام آبادنیشنل پریس کلب کے باہر سی بی آر ریزیڈنشیا کے متاثرین کا احتجاج، انصاف اور رقوم کی واپسی کا مطالبہ

اسلام آبادنیشنل پریس کلب کے باہر سی بی آر ریزیڈنشیا کے متاثرین کا احتجاج، انصاف اور رقوم کی واپسی کا مطالبہ

0

اسلام آباد (ملک راشد نزیر) سی بی آر ریزیڈنشیا سے متاثرہ شہریوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کی قیادت حبیب الرحمن نے کی، جبکہ مظاہرین نے سی بی آر کی فائلیں اور متعلقہ دستاویزات اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور انصاف کی فراہمی لوٹی گئی رقوم کی واپسی اور متبادل پلاٹس کی فراہمی کے حق میں نعرے بازی کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ



 سی بی آر ریزیڈنشیا میں سرمایہ کاری کرنے والے ہزاروں شہری کئی برسوں سے مشکلات کا شکار ہیں، مگر انہیں تاحال انصاف نہیں مل سکا متاثرین کے مطابق انہوں نے باقاعدہ مکمل ادائیگیاں کیں اور اس وقت آئی ایٹ اسلام آباد میں قائم سوسائٹی کے دفتر سے مسلسل رابطے میں رہے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سلیم خان بطور سیکرٹری جنرل موجود تھے اور ان کے پاس آج بھی متعلقہ کارڈز، رسیدیں اور دیگر دستاویزات محفوظ ہیںمتاثرین نے بتایا کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ الفجر گروپ لینڈ پرووائیڈر



 ہے جبکہ سوسائٹی خود اس منصوبے کی ذمہ دار ہے، جس کے بعد انہوں نے 2017 میں ادائیگیاں کیں ان کے مطابق بعد ازاں انہیں پلاٹ نمبرز اور دیگر تفصیلات پر مشتمل الاٹمنٹ لیٹرز بھی جاری کیے گئے، تاہم اب انہیں پلاٹس دینے سے انکار کیا جا رہا ہےمظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مشتاق عشکری اور الطاف بٹ نے 2023 میں متعلقہ زمین فیصل ٹاؤن کے حوالے کر دی، جبکہ ادائیگیاں بھی ایک نجی کمپنی کے ذریعے وصول کی گئیں متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے تمام خطوط اور ثبوت موجود ہیں، مگر متعلقہ افراد ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہیں، حالانکہ ایم ایس سی بی آر کی جانب سے باقاعدہ الاٹمنٹ لیٹرز


 جاری کیے گئے تھےمتاثرین کے مطابق تقریباً 18 سے 19 سو خاندان اس معاملے سے متاثر ہوئے ہیں اور وہ مختلف اداروں کے چکر لگا کر تھک چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئی سی ٹی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی رجوع کیا، مگر انہیں تاحال کوئی مؤثر ریلیف نہیں ملا  ان کے مطابق ان کی زمین دوسرے منصوبے کے حوالے کر دی گئی جبکہ انہیں آج تک ان کا حق نہیں دیا گیامظاہرین نے کہا کہ 2017 میں ڈالر اور سونے کی قیمتیں آج کے مقابلے میں بہت کم تھیں اس لیے لوگوں نے بہتر مستقبل، بچوں کی شادیوں اور زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر پلاٹس خریدے تھے متاثرین میں بیوائیں، بزرگ شہری اور متوسط


 طبقے کے افراد بھی شامل ہیں جو آج شدید ذہنی اور مالی اذیت کا شکار ہیںمتاثرہ شہری مطیع نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آر ریزیڈنشیا کے تمام متاثرین شدید مشکلات سے دوچار ہیں ان کے مطابق بعض افراد کو دیے گئے چیکس بھی آج تک کیش نہیں ہو سکے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ چیکس صرف ایف آئی اے کی کارروائی سے بچنے کے لیے جاری کیے گئے تھے جبکہ عملی طور پر کسی متاثرہ شخص کو ریلیف نہیں ملا انہوں نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکےاس موقع پر حبیب الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین اپنے حقوق کے حصول تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کی جمع پونجی لوٹنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، شفاف تحقیقات مکمل کی جائیں اور متاثرین کو جلد از جلد انصاف، متبادل پلاٹس یا ان کی رقوم واپس کی جائیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !