google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 خانقاہ شریف اراضی کیس، سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے، یوسف اکرم عباسی

خانقاہ شریف اراضی کیس، سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے، یوسف اکرم عباسی

0

سپریم کورٹ کے نام پر گمراہ کن پروپیگنڈا مسترد، وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد  (سٹی رپورٹر) بہاولپور میں واقع خانقاہ شریف حضرت خواجہ امام بخش سیرانی کے شرعی و قانونی وارث ہونے کے دعویدار صاحبزادہ میاں یوسف اکرم عباسی ،صاحبزادہ میاں عاطف عباسی نےمطالبہ کیا ہے کہ خانقاہ شریف کی 87 مربع اراضی سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے حتمی فیصلے پر فوری عملدرآمد کرایا جائے،میاں نجیب اویسی، میاں شعیب اویسی یا اویسی خاندان کے کسی فرد کا وراثت، نسب، ولایت یا جائیداد سے کوئی قانونی تعلق ثابت نہیں ہوا، خانقاہ کی تقریباً 87 مربع اراضی پر گزشتہ چار دہائیوں سے قبضہ برقرار ہے اور عدالتی فیصلوں کے باوجود انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا،



 ،جس کی قانونی لڑائی تقریباً 40 سال سے جاری ہے، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری نہ ہونے کے باوجودمخالفین کاسوشل میڈیا پر اسے اپنی کامیابی قرار دینا عدالت کے وقار اور قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان ہے، چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور سپریم کورٹ کے نام پر مبینہ طور پر گمراہ کن مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے،انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیوں کا سامنا ہے جبکہ انتظامیہ بھی مؤثر کارروائی نہیں کر رہی،میاں یوسف اکرم عباسی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ قبضہ مافیا کے خلاف حکومتی پالیسی کا اطلاق بااثر سیاسی شخصیات پر بھی کیا جائے، اگر قانون حکومتی جماعت کے ارکان پر نافذ نہیں ہوگا تو عام شہری انصاف سے محروم رہیں گے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اپنے بڑے بھائی صاحبزادہ عاطف اکرم عباسی و دیگر کے ہمراہ پریس



 کانفرنس کرتے ہوئے میاں یوسف اکرم عباسی کا مزید کہنا تھا کہ خانقاہ کی تقریباً 87 مربع اراضی پر گزشتہ چار دہائیوں سے قبضہ برقرار ہے اور عدالتی فیصلوں کے باوجود انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ یہ جنوبی پنجاب کا ایک ہائی پروفائل جائیداد کا مقدمہ ہے، جس کی قانونی لڑائی تقریباً 40 سال سے جاری ہے اور اس دوران ان کے خاندان کی تین نسلیں انصاف کی منتظر رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مخالفین میں مسلم لیگ (ن) کے موجودہ رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، سابق رکن قومی اسمبلی میاں نجیب اویسی اور پنجاب اسمبلی کے رکن میاں شعیب اویسی شامل ہیں۔میاں یوسف اکرم عباسی نے دعویٰ کیا کہ 1947 میں حضرت خواجہ امام بخش سیرانی نے ایک خاندان کو انسان دوستی کی بنیاد پر خانقاہ کے قریب رہائش دی، بعد ازاں اسی خاندان کے ایک فرد نے منشی کی حیثیت سے اعتماد حاصل کیا اور بعد میں مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں جعل سازی کر کے جائیداد پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور بینچ کے



 ایک تفصیلی عدالتی فیصلے میں بھی مبینہ طور پر اویسی خاندان کا حضرت خواجہ امام بخش سیرانی کی وراثت یا سجادہ نشینی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔میاں یوسف اکرم عباسی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ قبضہ مافیا کے خلاف حکومتی پالیسی کا اطلاق بااثر سیاسی شخصیات پر بھی کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون حکومتی جماعت کے ارکان پر نافذ نہیں ہوگا تو عام شہری انصاف سے محروم رہیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیوں کا سامنا ہے جبکہ انتظامیہ بھی مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ متنازع اراضی پر ہزاروں دکانیں، بینک، فلور ملز، کارخانے اور سینکڑوں رہائشی مکانات موجود ہیں جن سے حاصل ہونے والا کرایہ مخالف فریق وصول کر رہا ہے، جبکہ ان کی جانب سے کمشنر بہاولپور کو متعدد بار رینٹ رسیور مقرر کرنے کی درخواستیں بھی دی جا چکی ہیں۔صاحبزادہ یوسف اکرم عباسی نے کہا کہ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے 23 جنوری 2023 کو CRP No 384/2023 اور CRP No 385/2023 اور 11



 نومبر 2023 کو نظر ثانی اپیل مسترد کر کے سول کورٹ، سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو میاں احمد بخش وغیرہ کے حق میں برقرار رکھا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ مکمل قانونی حیثیت سے نافذ العمل ہے،انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق حضرت خواجہ امام بخش سیرانیؒ کے حقیقی شرعی و قانونی ورثاء عباسی صاحبان ہیں، جبکہ میاں نجیب اویسی، میاں شعیب اویسی یا اویسی خاندان کے کسی فرد کا وراثت، نسب، ولایت یا جائیداد سے کوئی قانونی تعلق ثابت نہیں ہوا،ان کا الزام تھا کہ سپریم کورٹ سے نظر ثانی اپیل خارج ہونے کے باوجود سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر حقیقی ورثاء کے نام انتقالات درج نہیں ہونے دئیے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور بورڈ آف ریونیو کو عملدرآمد کے لیے درخواستیں دی گئیں، لیکن تین سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں ہوا، جس کے باعث مقدمہ



 جیتنے کے باوجود اصل حقدار دربدر ہیں ،صاحبزادہ یوسف اکرم عباسی نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے پنجاب کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائمز ایکٹ 2025 کے حوالے سے کہا کہ ناجائز قبضوں کے خلاف کارروائی کا آغاز اپنی جماعت کے ارکان سے کیا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرتے ہوئے ورثاء کے نام انتقالات درج کرائے جائیں،انہوں نے وضاحت کی کہ 16 جولائی 2026 کو سپریم کورٹ کے کورٹ نمبر 4 کے دو رکنی بینچ کے سامنے صرف چند بونا فائیڈ خریداروں کی CPLA 3303/2024 آرٹیکل 12/2 کے تحت درخواستیں سماعت کے لیے آئیں، جو پہلے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ سے مسترد ہو چکی تھیں۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دے کر لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کو بھجوا دیا، تاہم اس کا باضابطہ تحریری حکم 21 جولائی تک جاری نہیں ہوا ، ان کا کہنا تھا کہ ان



 درخواستوں میں میاں نجیب اویسی یا ان کے خاندان کا کوئی فرد فریق نہیں تھا، لیکن پرنٹ میڈیا، ویب چینلز اور فیس بک پر یہ خبر گمراہ کن انداز میں چلائی گئی کہ سپریم کورٹ نے 87 مربع اراضی کا کیس ان کے حق میں دے دیا ہے، جو حقائق کے منافی ہے،انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کا نام استعمال کر کے فیصلوں کو مسخ کرنے اور جھوٹی معلومات پھیلانے کا نوٹس لے کر قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے،آخر میں انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ، وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر بہاولپور ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر فوری عملدرآمد کرا کے جائیداد حقیقی ورثاء کو منتقل کی جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !