لاہورِپاکستان میڈیا رائٹرز کلب کے وفد کا سائبان مہمان خانے کادورہ
personشہر اقتدار
جولائی 06, 2026
0
share
وفد کی قیادت چیئرمین افتخار خان نے کی جبکہ میزبان معروف شاعر حسین مجروح تھے
لاہور (بیورو رپورٹ)گزشتہ روز محترم حسین مجروح صاحب نے "پاکستان میڈیا رائٹرز کلب" کے وفد کے اعزاز میں اپنے مہمان خانے"سائبان" ویسٹ ووڈ سوسائٹی(رائےونڈ روڈ) ٹھوکر نیاز بیگ لاہور میں ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ پاکستان میڈیا رائٹرز کلب وفد کے چیئرمین افتخار خان کی قیادت میں مہمان خانہ "سائبان" کے دورے میں شرکت کی جن میں چیئرمین افتخار خان ، سینئر صحافی فضل حسین اعوان ، جنرل سیکرٹری نبیلہ اکبر ، محمد شعیب مرزا، ڈاکٹر فضیلت بانو، فرزانہ چوہدری ، عاصم لطیف
چودھری، سید بدر سعید ، اسعد نقوی ، محمد شہزاد، محمد شاہد حنیف، ڈاکٹر اریبہ، حامد علی ، عمار خان و دیگر موجود تھے۔ دورے کے دوران ایک مکالمہ بھی ہوا جس کا موضوع "پاک ٹی ہاؤس اور پریس کلب لاہور کے درمیان حائل خلیج" کے گفتگو میں صحافی اور ادیب دونوں کا تعلق قلم سے ہے دونوں قلم کے پجاری اور قلم کے مزدور ہیں لیکن دونوں کے درمیان ایک خلیج ہے تفریق ہے جہاں ادیب صحافی کو ادیب نہیں مانتے اور اپنا قد اونچا محسوس کرتے ہیں کہ ادیب برسوں
بلکہ صدیوں زندہ رہتا ہے جب کہ صحافی آج مرے کل دوسرا دن لیکن مجید نظامی اور مجیب الرحمٰن شامی صاحب بہت سے نام ہیں جو صدیوں صحافت کی دنیا میں زندہ رہتے ہیں یہاں پر ایک اور چیز موضوع بحث آئی کہ پریس کلب کی دنیا میں کالم نگار فیچرز رائٹر کو ایک صحافی ہی نہیں مانا جاتا جبکہ رپوٹرز اور خبریں بنانے والوں کو صحافی کہا جاتا ہے ایسا بھی ہوتا ہے ایک صحافی کئی کتابوں کا مصنف
ہے فیچرز رائٹر ہے کالم نگار ہے لیکن ادیب کی دنیا میں ان کو ادیب نہیں سمجھا جاتا ہے اور ادھر خبریں بنانے والے صحافی کا فیچرز رائٹر و کالمز نگار کو ایک دوسری مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جیسے ان کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں جبکہ دوسری طرف شاعر و ادیب شاید صحافی نہیں بن سکتا مگر ایک صحافی جن کی کئی کتابیں ہیں کئی نام ہیں کتابوں کے مصنف ہیں لیکن ابھی بھی دنیا میں ان کو
ادب کا کھلاڑی نہیں جانا جاتا۔ یہ موضوع بحث طلب ہے اور اس پہ طبع آزمائی کی لیکن مکالمہ بوجہ بندش وقت ادھورا رہا جو کہ طویل بحث رکھتاہے۔پاکستان میڈیا رائڈرز کلب کا ادبی محفل خانے میں جانا سے ایک چیز تو صحافیوں کے حق میں گئی یہ کہ لاہور سے باہر آنے والے صحافیوں کو اپنے "سائبان" مہمان خانے میں رہائش مفت دینے کا بھی اعلان کیا اور اس خلیج اس تفریق کو دور کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی سند باندھی۔ حبس زدہ معاشرے میں یا زندگی کے کسی موقع پر صحافیوں کو ادیبوں کا اور ادیبوں کو صحافیوں کا مددگار ایک ساتھ ایک صف میں کھڑے ہونے کی عندیہ بھی دیا۔