google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 آزاد کشمیر میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، ریاستی نظام میں فوری اصلاحات ناگزیر ہیں – راجہ عاشق خان (جماعت اسلامی)

آزاد کشمیر میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، ریاستی نظام میں فوری اصلاحات ناگزیر ہیں – راجہ عاشق خان (جماعت اسلامی)

0

اسلام آباد – جماعت اسلامی کے رہنما راجہ عاشق خان نے اپنے ایک اہم بیان میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ جب ریاستی اداروں کے محافظ، جیسے پولیس اہلکار، اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر آ جائیں تو یہ حکومت کی ناکامی اور عوامی استحصال کا واضح ثبوت ہے۔
راجہ عاشق خان نے کہا کہ "گڈ گورننس کے حکومتی دعوے صرف تقریروں تک محدود ہیں"، جبکہ عملی طور پر عوام، اساتذہ، اور دیگر سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور حکمران صرف اپنی کرسی بچانے کے چکر میں لگے ہیں۔حلقہ غربی باغ پسماندگی کا شکار
اپنے بیان میں انہوں نے حلقہ غربی باغ کے مسائل پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ:"حلقہ غربی باغ میں نہ تعلیم کی سہولت ہے، نہ صحت، نہ روزگار اور نہ ہی انفراسٹرکچر کا کوئی نظام۔ عوام پسماندگی کا شکار ہیں جبکہ منتخب نمائندے نظریات کی سیاست میں مصروف ہیں۔"

































انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور منتخب ایم ایل اے نے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو عوام کا غصہ قہر بن جائے گا۔ریاست میں دہرا معیار قبول نہیں راجہ عاشق خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:"اگر بیوروکریٹس، ایم ایل ایز اور افسران کی مراعات میں اضافہ ممکن ہے تو چھوٹے سرکاری ملازمین، پولیس، اساتذہ اور دیگر محکموںکے غریب ملازمین کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیے جا سکتے؟"انہوں نےدہرا معیار واضح کرتے ہوئے کہا کہ:غریب ملازم سے معمولی غلطی پر تنخواہیں واپس لی جاتی ہیں۔بجلی کا بل نہ دینے پر کنکشن کاٹا جاتا ہے۔
جبکہ وہی افسر عوام کے دیے ہوئے ٹیکس سے مفت بجلی، فون، اور فیول استعمال کرتا ہے۔نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیںانہوں نے مطالبہ کیا کہ:
ریاستی نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں۔
کرپشن، اقرباء پروری، اور بیوروکریسی کی من مانیوں کا خاتمہ ہو۔
تمام طبقات کو برابر کا شہری تصور کرتے ہوئے ان کے حقوق دیے جائیں۔
راجہ عاشق خان نے یہ بھی کہا کہ شرقی باغ میں چار سال بعد الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ آیا، اور نااہل وزیر نے قومی خزانے سے جتنی تنخواہیں اور مراعات لیں، اس کا حساب کون دے گا؟ اگر یہی کام کسی چھوٹے ملازم نے کیا ہوتا تو اس سے ہر پائی وصول کی جاتی۔ جماعت اسلامی کا مؤقف راجہ عاشق خان نے کہا:"جماعت اسلامی پسے ہوئے طبقے کی آواز ہے، ہم بیوروکریسی کی من مانیاں ختم کرکے اسلامی و آئینی اصولوں پر مبنی نظام لانا چاہتے ہیں، جس میں ہر فرد کو برابر کا حق حاصل ہو۔"انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر:تمام احتجاجی ملازمین کے مطالبات پورے کرے۔بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔اور اصلاحاتی عمل کو عملی طور پر شروع کرے، ورنہ عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !