کراچی (نامہ نگار خصوصی):
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے جمعہ کے روز شعبہ ویژوئل اسٹڈیز میں تزئین و آرائش کے بعد نئے ہال کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ:
"کسی بھی تعلیمی ادارے کا مضبوط انفراسٹرکچر اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور وژن کا عکاس ہوتا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ شعبہ ویژوئل اسٹڈیز کی سہولیات کو بہتر بنا کر تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کو یقینی بنانا ان کا مقصد ہے۔ وائس چانسلر نے تحقیقی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تحقیق کو صنعتی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو دونوں شعبے ترقی کرتے ہیں۔
یونیورسٹیاں علم اور ترقی کا ذریعہ ہیں، محض تعلیم نہیں
اس موقع پر اے کیو ایس شپنگ اینڈ لاجسٹکس کے چیئرمین عاطف حسین نے کہا کہ:"یونیورسٹیوں کا مقصد صرف تعلیم دینا نہیں، بلکہ نیا علم پیدا کرنا، ترقی کے لیے حل پیش کرنا اور معاشرے کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔"انہوں نے طلبہ کو روایتی ملازمت کی تلاش کی بجائے تحقیق و ترقی (R&D) اور کاروباریت (entrepreneurship) کو اپنانے پر زور دیا۔
طلبہ کی صلاحیت پاکستان کا روشن مستقبل ہے
جامعہ کراچی کی فیکلٹی آف آرٹس و سوشل سائنسز کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:"ہمیں آپ کی علمی و تخلیقی صلاحیتوں پر یقین ہے، آپ نہ صرف اپنی پہچان بنائیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام بھی روشن کریں۔"تقریب میں آئس بریکر فاؤنڈیشن کے چیئرمین محمد علی اور شعبہ ویژوئل اسٹڈیز کے انچارج محمد شمعون حیدر نے بھی خطاب کیا اور جدید تعلیم اور اختراعی سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
جامعہ کراچی میں انتظامی افسران کے لیے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام
جامعہ کراچی کے انتظامی عملے کے لیے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام جمعہ کے روز سردار یاسین ملک پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر میں اسناد تقسیم کی تقریب کے ساتھ ہوا۔ورکشاپ کا مقصد افسران کو جدید انتظامی اصولوں، قیادت کی مہارتوں اور مؤثر ابلاغ کی تکنیکوں سے روشناس کروانا تھا تاکہ وہ موجودہ پیشہ ورانہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے تقریب سے خطاب میں کہا:
"انتظامی عملہ تعلیمی اداروں کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح کی تربیت نہ صرف ان کی کارکردگی میں بہتری لاتی ہے بلکہ ان میں پیشہ ورانہ اعتماد بھی پیدا کرتی ہے۔"ورکشاپ میں شریک افسران نے اسے ایک مفید، عملی اور بصیرت افروز تجربہ قرار دیا اور مستقبل میں ایسے مزید پروگراموں کی خواہش کا اظہار کیا۔اس موقع پر رجسٹرار جامعہ کراچی، پروفیسر ڈاکٹر عمران احمد صدیقی نے عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
جامعہ کراچی: کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں جدید تعلیم اور مہارت سازی پر ورکشاپ
شعبہ کیمیکل انجینئرنگ، جامعہ کراچی نے جمعہ کو "نتیجہ خیز تعلیم (Outcome-Based Education)، تربیت یافتہ اساتذہ کا معیاری تعلیم میں کردار اور کیمیکل انجینئرز کے لیے کاروباریت" کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ میں تعلیمی رہنماؤں اور ماہرین نے شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ روایتی تعلیم کے بجائے جدید مہارتوں، عملی تربیت، مؤثر ابلاغ اور ٹیم ورک کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا:"محض ملازمت حاصل کرنا اب کامیابی نہیں، بلکہ ملازمت پیدا کرنا اصل ہدف ہونا چاہیے۔ نوجوان خود انحصار بنیں اور ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کریں۔"خواجه فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ آئی ٹی، رحیم یار خان کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے کہا کہ:
"کامیاب ٹیم ورک ہر ادارے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب ٹیم کے ہر رکن کی اہمیت تسلیم کی جائے اور تنقید کو مثبت انداز میں لیا جائے تو کارکردگی خود بخود بہتر ہوتی ہے۔"شعبہ کیمیکل انجینئرنگ کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اشتیاق نے مؤثر ابلاغ کی اہمیت پر روشنی ڈالی:"اچھا بولنا ہی کافی نہیں، سننا، سمجھنا اور رابطہ قائم کرنا اصل فن ہے۔"تمام مقررین نے متفقہ طور پر کہا کہ ایسی ورکشاپس صرف خرچ نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں، کیونکہ موجودہ مارکیٹ میں کامیابی کے لیے صرف کتابی علم نہیں، بلکہ حقیقی دنیا کی مہارتیں درکار ہیں۔

