google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 ریڈ لائن پار: خاتون سب انسپکٹر کی ہراسگی کا سنسنی خیز انکشاف – کیا وزیراعلیٰ مریم نواز اپنے وعدے پر قائم رہیں گی

ریڈ لائن پار: خاتون سب انسپکٹر کی ہراسگی کا سنسنی خیز انکشاف – کیا وزیراعلیٰ مریم نواز اپنے وعدے پر قائم رہیں گی

0


*رانا تصدق حسین*
*صائمہ بھٹی*
لاھور پنجاب پولیس میں تعینات ایک بہادر خاتون سب انسپکٹر نے دو اعلیٰ پولیس افسران پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے، بدتمیزی کرنے اور محکمانہ تحفظ حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ خاتون افسر نے کہا کہ انہوں نے تمام ثبوت محکمہ کو دے دیے، لیکن اس لیے کوئی کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ ملزم افسر "سی ایس ایس" ہے۔




یہ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اُس وعدے کا امتحان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خواتین کے ساتھ ہراسانی ‘ریڈ لائن’ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس ریڈ لائن کی حفاظت کریں گی یا یہ وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح ماضی بن جائے گا؟
درخواست گزار کے مطابق سی ایس پی افسر منیب احمد نے انہیں اپنا بینک کارڈ بھیجا اور ذاتی تعلقات کا تقاضا کیا۔
خاتون کے مطابق ایس پی منازہ نے بھی ظلم کی انتہا کی، دو گھنٹے باہر بٹھائے رکھا اور اندر منیب کو چائے پیش کرتی رہیں—کیونکہ انہیں اُس کے حق میں ایک "ریفرنس کال" موصول ہوئی تھی۔
ایک اور بڑا الزام ڈی آئی جی کیپٹن لیاقت ملک پر ہے، جنہوں نے نجی ملاقاتوں کا مطالبہ کیا اور خاتون کو ہراساں کیا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں، یہاں تک کہ نجی نمبروں سے کالز بھی، مگر آئی جی پنجاب کو شکایت کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
درخواست کا اختتام انتہائی تکلیف دہ ہے: “میں واقعی خودکشی کرنا چاہتی ہوں”۔
یہ صرف ایک ہراسگی کیس نہیں، بلکہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے وعدوں کا عملی امتحان ہے۔ اگر اس کیس میں انصاف نہ ہوا، تو یہ پیغام جائے گا کہ خواتین کا تحفظ صرف تقاریر تک محدود ہے۔
کیا کوئی بااختیار شخصیت آگے بڑھے گی؟
کیا مریم نواز اپنی ریڈ لائن پر ڈٹیں گی یا یہ لائن خاموشی سے مٹ جائے گی؟

Tags

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !