google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 خواتین کے تحفظ کے لیے سرسید یونیورسٹی کی طالبہ بسمہ آصف کی تیار کردہ "سیف ویئر" ڈیوائس کو سراہا گیا سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کے وفد کا سرسید یونیورسٹی کا دورہ، چانسلر اکبر علی خان سے ملاقات

خواتین کے تحفظ کے لیے سرسید یونیورسٹی کی طالبہ بسمہ آصف کی تیار کردہ "سیف ویئر" ڈیوائس کو سراہا گیا سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کے وفد کا سرسید یونیورسٹی کا دورہ، چانسلر اکبر علی خان سے ملاقات

0

 
کراچی، 23 جولائی 2025 – سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے صدر درخشاں جہاں کی قیادت میں سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی کا دورہ کیا اور چانسلر محمد اکبر علی خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں خواتین کے تحفظ، پیشہ ورانہ ترقی، قانونی شعور اور تعلیم کے میدان میں تعاون جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان،  محترمہ ارم اکبر علی اور رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی کے ہمراہ سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کی صدر درخشاں جہاں کو یونیورسٹی کا نشان پیش کررہے ہیں۔

اس موقع پر سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کی صدر درخشاں جہاں نے کہا:
"انصاف، وقار اور خواتین کی مساوی نمائندگی ہماری جدوجہد کا مرکز ہے۔ ہمارا ادارہ صرف علامتی نہیں بلکہ خواتین کو قانونی میدان میں بااختیار بنانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔"
انہوں نے شعبہ سافٹ ویئر انجینئرنگ کی طالبہ بسمہ آصف کی جانب سے تیار کردہ "سیف ویئر" ڈیوائس کو سراہا، جس کا مقصد کسی بھی ہنگامی یا خطرناک صورت حال میں خواتین کو فوری مدد فراہم کرنا ہے۔ درخشاں جہاں نے اس ڈیوائس کو سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کی خواتین وکلاء میں متعارف کرانے کا وعدہ بھی کیا۔
چانسلر محمد اکبر علی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا:



"قوانین تبھی مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سماج میں مردوں کے مائنڈ سیٹ میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے تاکہ وہ خواتین کے حقوق کو عالمی تناظر میں تسلیم کر سکیں۔"
ہراسمنٹ کمیٹی کی کنوینئر محترمہ ارم اکبر علی خان نے کہا کہ:
"معاشرتی امتیاز، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور خواتین کی سیاسی نمائندگی کی کمی آج بھی ان کے تحفظ اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔"
انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ
"جنسی ہراسانی اور تشدد کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا، جو اس مسئلے کی سنگینی اور معاشرتی خرابی کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ صرف حقوق کی پامالی نہیں بلکہ قومی ترقی کے عمل کو بھی متاثر کرتا ہے۔"
تقریب میں سرسید یونیورسٹی اور علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے نمائندگان نے بھی شرکت کی، جن میں رجسٹرار سید سرفراز علی، ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر، ڈاکٹر نسیم، ڈاکٹر کاشف شیخ، ڈائریکٹر کوآرڈینیشن جہانگیر احسان، کنوینئر محسن کاظم اور دیگر شامل تھے۔
تقریب کے اختتام پر چانسلر محمد اکبر علی خان نے درخشاں جہاں کو یونیورسٹی کا نشان اور معروف ادیب محمد ذاکر علی خان کی کتاب "روایاتِ علیگڑھ" پیش کی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !