اسلام آباد، 23 جولائی 2025 – ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سلوشنز (RADS)، جو تحقیق، مانیٹرنگ، ایویلیوایشن اور تکنیکی معاونت کے میدان میں پاکستان کا ایک نمایاں ادارہ ہے، نے ایک اعلیٰ سطحی پالیسی مکالمے کا انعقاد کیا جس کا مقصد بیماریوں کے بوجھ (Burden of Disease) سے متعلق ڈیٹا کے مؤثر استعمال کے ذریعے قومی صحت پالیسی کو مزید سائنسی اور مؤثر بنانا تھا۔
اس اہم اجلاس میں اعلیٰ حکومتی نمائندگان، بین الاقوامی شراکت دار، ترقیاتی ادارے اور صحت کے شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح Global Burden of Disease (GBD) جیسے بین الاقوامی اقدامات سے حاصل شدہ ڈیٹا کو منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور احتساب میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، ڈاکٹر محمد صفی نے کلیدی خطاب میں کہا"پاکستان کا نظام صحت، اگر بیماریوں کے بوجھ پر مبنی مستند اور علاقائی ڈیٹا کو فیصلہ سازی میں بروئے کار لائے، تو نہ صرف پالیسی سازی مؤثر بن سکتی ہے بلکہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ بھی ہو سکتی ہے۔"
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اس کے نظام میں انضمام کی کوششیں جاری ہیں، مگر ان میں مزید تیزی اور شعبہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر صائمہ بشیر، ممبر سوشل پروٹیکشن و ڈیوولوشن، وزارت منصوبہ بندی نے کہا:"اکیڈمیا اور پالیسی سازوں کے مابین موجود خلا کو کم کرنا ضروری ہے۔ ایک مؤثر ڈیٹا شیئرنگ پالیسی اس وقت کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے تاکہ پالیسی سازی میں شواہد پر مبنی فیصلے ممکن بنائے جا سکیں۔"RADS کے چیف نالج آفیسر، ڈاکٹر عدنان خان نے اس موقع پر کہا:
"ڈیٹا اور پالیسی سازی کے درمیان موجود فاصلہ اب مزید قابلِ قبول نہیں۔ ہمیں اس خلا کو پُر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ ہر فیصلہ زمینی حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہو۔"یہ مکالمہ RADS اور انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن (IHME) کے باہمی تعاون کا حصہ تھا، جس کا مقصد پاکستان میں بیماریوں کے بوجھ اور صحت کے خطرات کے ذیلی تخمینے فراہم کر کے، قومی و علاقائی سطح پر صحت سے متعلق زیادہ مؤثر، منصفانہ اور شواہد پر مبنی فیصلے ممکن بنانا ہے۔یہ اجلاس ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں مختلف شعبہ جات کے درمیان پائیدار تعاون کی راہیں ہموار کی جا سکیں گی، اور ایسی قابلِ عمل سفارشات تشکیل دی جا سکیں گی جو بیماریوں کے بوجھ پر مبنی ڈیٹا کو پاکستان کی صحت حکمت عملیوں میں مؤثر انداز سے شامل کر سکیں۔

