اسلام آباد (رپورٹ: نمائندہ خصوصی) — پاکستان راہِ حق پارٹی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (APC) میں ملکی سلامتی، ناموسِ رسالت ﷺ، مہنگائی، عدلیہ، اور کشمیر سمیت اہم قومی و بین الاقوامی امور پر غور کیا گیا، جس کے بعد کانفرنس کا دس نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا۔
کانفرنس کی صدارت پارٹی چیئرمین حکیم محمد ابراہیم قاسمی نے کی، جس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندگان، علما، ماہرینِ قانون اور سکالرز نے شرکت کی۔
🔷 اعلامیہ کے اہم نکات:
-
بھارت کے خلاف "بنیان المرصوص" آپریشن کی مکمل تائید کی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت توہینِ مذہب کے مقدمات پر کمیشن بنانے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔
توہینِ مذہب کے مقدمات کے حوالے سے ماہرینِ قانون اور مذہبی سکالرز پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
سوشل میڈیا پر ہونے والی توہین کے خلاف تمام پلیٹ فارمز کے دفاتر پاکستان منتقل کرنے کا مطالبہ۔
توہینِ رسالت ﷺ کے قانون کو نشانہ بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار، اور ایسے اقدامات کی شدید مذمت۔
مہنگائی، بیروزگاری جیسے مسائل پر مشترکہ سیاسی جدوجہد کے لیے سیاسی اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ۔
پارلیمنٹ سے منظور شدہ توہینِ صحابہ و اہلِ بیت بل پر صدرِ مملکت سے دستخط کا مطالبہ۔
حکومت سے مطالبہ کہ ٹیکسوں میں کمی اور حکومتی اخراجات میں تخفیف کی جائے۔ فلسطین کے مسئلے پر واضح موقف: پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا، فلسطین ایک ریاست ہے اور ایک ہی رہے گی۔
تحفظ ختم نبوت ﷺ کے لیے تمام سیاسی و مذہبی قوتیں متحد، اور عدالتوں سے اس معاملے پر احتیاط برتنے کی اپیل۔
🛑 حکومتی پالیسیوں پر تنقید:
مقررین کا کہنا تھا کہ:
پاکستان کو مذہب، فرقہ اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔
ملک میں آئین اور عدلیہ کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کشمیر کے مسئلے پر محض دکھاوے کی سیاست کر رہا ہے۔
-
چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو خطرے میں ڈالنے والی پالیسیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

