کراچی – مجلس وحدت مسلمین پاکستان (ایم ڈبلیو ایم) نے وفاقی حکومت کی جانب سے زائرین کے ایران و عراق بذریعہ سڑک زیارات پر جانے پر عائد پابندی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما زائرین کے ہمراہ ریمدان بارڈر کی جانب روانہ ہوں گے۔
ایم ڈبلیو ایم کے چیئرمین علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کربلا، نجف، مشہد اور قم کی زیارات اہل تشیع عقیدے کا حصہ ہیں اور یہ ہمارا مذہبی، آئینی اور انسانی حق ہے، جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ:"ہم زیارات پر ہر قسم کی رکاوٹ اور پابندی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارا احتجاج نہ سیاسی ہے اور نہ ہی کسی مفاد کا حامل، بلکہ صرف اور صرف اپنے مذہبی حق کے تحفظ کے لیے ہے۔"
علامہ راجا ناصر عباس نے واضح کیا کہ ایران اور عراق جانے والے زائرین کا مکمل ڈیٹا حکومت کے پاس موجود ہے، اور ماضی میں حکومت کی جانب سے زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے وعدے بھی کیے گئے تھے۔ زمینی راستے پر پابندی سے نہ صرف زائرین کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ملک کو معاشی نقصان بھی ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ:
"فضائی سفر پر حکومت کی جانب سے بھاری ٹیکس لیا جا رہا ہے، جو عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ زمینی سفر ایک محفوظ، سستا اور روایتی ذریعہ ہے جسے بند کرنا کسی صورت قبول نہیں۔"چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر وہ واقعی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے، تو بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔

