کچے کے ڈاکوؤں کا پولیس پکٹ پر بڑا حملہ، پانچ اہلکار شہید – ریاست کے اندر ریاست؟
personشہر اقتدار
اگست 01, 2025
0
share
تحصیل صادق آباد، ضلع رحیم یار خان کے تھانہ نواز آباد کی حدود میں واقع شیخانی پولیس پکٹ پر گزشتہ رات کچے کے علاقے میں سرگرم مسلح ڈاکوؤں نے ہولناک حملہ کیا۔ حملے میں تقریباً چالیس مسلح ڈاکوؤں نے پولیس پکٹ کو گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
شہداء کی شناخت درج ذیل ہے: 303/C محمد عرفان (بہاولنگر) 521/C محمد سلیم (بہاولنگر) 545/C نخیل (بہاولنگر) 1584/C خلیل (رحیم یار خان) 2771/C غلام مرتضیٰ (رحیم یار خان)
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی، اور علاقے میں سرچ آپریشن کی تیاری جاری ہے۔
22 کلومیٹر پر مشتمل "ریاست کے اندر ریاست" — کب تک؟
پنجاب کے کچے کا وہ علاقہ، جو تقریباً 22 کلومیٹر پر محیط ہے، کئی سالوں سے مسلح ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے۔ اس علاقے میں چند سو ڈاکو نہ صرف جدید ترین اسلحے سے لیس ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے لیے ایک باقاعدہ "ریاست کے اندر ریاست" قائم کر رکھی ہے۔یہ عناصر پیسہ، رعب، بد معاشی اور سیاسی پشت پناہی کے سائے میں پنپ رہے ہیں، اور ہر سال ان کے خلاف آپریشن کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے جاتے ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر خردبرد کی جاتی ہے۔
یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ:قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ہمارے قیمتی اہلکار یرغمال بنائے جا رہے ہیں، شہید کیے جا رہے ہیں۔چند طاقتور حلقے اور اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد اپنے ذاتی مفادات کے لیے ان کے خلاف حتمی کارروائی سے گریزاں ہیں۔پنجاب کا صرف 22 کلومیٹر کا علاقہ — جسے صاف کیا جا سکتا ہے — دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انسانی جان کو ذاتی مفاد کی جنگ میں سستا کر دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے بلکہ عوام کے اعتماد کی شدید توہین بھی ہے۔
مطالبہ:
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف فوری، فیصلہ کن اور شفاف آپریشن کیا جائے۔فنڈز کے استعمال کا آڈٹ کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائ۔شہداء کے خاندانوں کو انصاف، اور اداروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔یہ وقت محض بیانات یا "نوٹس" لینے کا نہیں، عمل کا وقت ہے۔