google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 وادی تیراہ میں دہشت گرد حملہ، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اظہارِ افسوس، متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان

وادی تیراہ میں دہشت گرد حملہ، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اظہارِ افسوس، متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان

0

 اسلام آباد

خیبرپختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے معصوم شہریوں کی شہادت پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے قوم کو یقین دلایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ "ہم دہشت گردوں کے خلاف آخری حد تک جائیں گے اور انہیں منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔" وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا ٹاسک دیا۔

متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان:

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس اور زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے فی کس مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ "ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔"

جرگہ اور عوامی مشاورت کا سلسلہ شروع:

وزیراعلیٰ نے پشاور میں قبائلی عمائدین اور عوامی نمائندوں کا جرگہ طلب کر لیا ہے تاکہ مقامی سطح پر عوامی جذبات کو سنا جا سکے اور پائیدار امن کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ڈویژنل اور پھر صوبائی سطح پر مشاورتی جرگوں کا سلسلہ اگلے ہفتے سے شروع کیا جائے گا۔

آل پارٹیز کانفرنس اور اتفاقِ رائے:

وزیراعلیٰ کے مطابق حالیہ آل پارٹیز کانفرنس میں دہشت گردی سے نمٹنے، عوامی تحفظ یقینی بنانے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے جامع تجاویز پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان تجاویز پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔


پس منظر:

وادی تیراہ طویل عرصے سے دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور حکومت کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود، حالیہ حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ دہشت گرد عناصر اب بھی سرگرم ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف عسکری نہیں، بلکہ معاشرتی اتحاد اور عوامی تعاون کی بھی متقاضی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !