مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی وزیر کی عبادت، مسلم دنیا میں شدید ردعمل
personشہر اقتدار
اگست 04, 2025
0
share
مقبوضہ بیت المقدس:
اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتامر بین گویر نے اتوار کے روز مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر یہودی مذہبی عبادت ادا کی، جسے دنیا بھر میں مسلمانوں نے ایک سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف عشروں پرانے "اسٹیٹس کو" معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا باعث بھی بن رہا ہے۔بین گویر کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں مذہبی دعائیں کر رہے ہیں۔ یہ مقام، جسے یہودی "ٹیمپل ماؤنٹ" کہتے ہیں، اسلامی عقیدے میں قبلہ اول اور تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
تاریخی تناظر:
یاد رہے کہ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن مسجدِ اقصیٰ کا انتظامی کنٹرول اب بھی اردن کے "وقف اسلامی" ادارے کے پاس ہے۔ بین الاقوامی معاہدے کے مطابق صرف مسلمان اس مقام پر عبادت کر سکتے ہیں، جبکہ دیگر مذاہب کے افراد کو صرف زیارت کی اجازت ہے۔
عالمی ردعمل:
اردن نے اس واقعے کو "ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی" قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے شدید احتجاج کیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے بیان دیا کہ یہ اقدام "تمام سرخ لکیریں عبور کر گیا ہے" اور اس کے نتائج "خطرناک" ہو سکتے ہیں۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسے "فلسطینی قوم کے خلاف جارحیت" قرار دیا، جبکہ ترکی، ایران اور کئی عرب ممالک نے بھی بین گویر کے عمل کی مذمت کی ہے۔
اسرائیلی وضاحت:
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیل کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی" اور "مذکورہ مقام پر عبادت کی اجازت صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔"
تجزیہ:
بین گویر کا یہ قدم نہ صرف اسرائیل کی اندرونی سیاسی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے بلکہ خطے میں مذہبی کشیدگی کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے۔ اس وقت جبکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کی کوئی واضح راہ دکھائی نہیں دے رہی، ایسے اقدامات مزید بد اعتمادی اور تنازع کو جنم دے سکتے ہیں۔