ایچ آر سی پی کی بلوچستان پر تشویش، سیاسی حل اور انسانی حقوق کی بحالی پر زور
personشہر اقتدار
اگست 06, 2025
0
share
اسلام آباد (6 اگست 2025): پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں جمہوری آزادیاں محدود ہو رہی ہیں اور صوبائی خودمختاری کمزور پڑ چکی ہے، جس کے باعث عوامی بیگانگی اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ، شریک چیئرپرسن منیزے جہانگیر، فرحت اللہ بابر، نسرین اظہر اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ قانون سے بالاتر رہنے کا رویہ بے لگام ہو چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان میں اعتماد کی بحالی اور تنازع کے حل کے لیے سیاسی مکالمہ اور انسانی حقوق کی پاسداری ناگزیر ہے۔
رپورٹ میں جبری گمشدگیوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے مطابق انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے ان کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مشن کا کہنا تھا کہ اگرچہ عام شہریوں اور غیر بلوچ آبادکاروں کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسند حملے ناقابلِ قبول ہیں اور ان میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے، تاہم انسدادِ دہشت گردی (بلوچستان ترمیمی) ایکٹ 2025 کی منظوری انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ یہ قانون 90 دن تک بغیر فرد جرم حراست کی اجازت دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی اور قوم پرست جماعتوں کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے سے عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا کہ ریاست شفافیت، انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنائے، دھاندلی کے الزامات کی غیر جانبدار تحقیقات کرائے اور انتظامی ڈھانچوں کو غیر سیاسی بنایا جائے تاکہ سیاسی بیگانگی کو روکا جا سکے۔
مشن نے ایک یکجا شہری پولیس فورس کے قیام کی سفارش کی ہے جس کے پاس مقامی کمیونٹی پر مبنی اور انسانی حقوق سے ہم آہنگ پولیسنگ کے لیے مناسب وسائل اور تربیت موجود ہو، تاکہ نیم فوجی اور فوجی اداروں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت 18ویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل شدہ صوبائی خودمختاری کو بحال کرے اور قدرتی وسائل کے انتظام میں مقامی لوگوں کی شمولیت اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔
رپورٹ میں سینڈک منصوبے اور بلوچستان مائنز اینڈ منرل ایکٹ میں حالیہ ترامیم پر نظرثانی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ اگر ریاست نے فوری طور پر شفاف، جامع اور انسانی حقوق پر مبنی سیاسی حل نہ اپنایا تو بلوچستان میں سیاسی اور سکیورٹی حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔