google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 ملک بھر میں صحافیوں سے زیادتی کا خود کو ذمہ دار سمجھتا ہوں، عطا تارڑ

ملک بھر میں صحافیوں سے زیادتی کا خود کو ذمہ دار سمجھتا ہوں، عطا تارڑ

0

 اسلام آباد (6 اگست 2025):

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں جہاں بھی صحافی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، وہ اس کا ذمہ دار خود کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی پر دادرسی ہونی چاہیے اور ایسے واقعات پر غیر مشروط معذرت کی جاتی ہے۔




ڈان نیوز کے مطابق سینیٹر علی ظفر کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں موشن پکچرز ترمیمی ایکٹ 2025 پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اجلاس میں وزارت اطلاعات کے حکام نے بتایا کہ نیا ادارہ فیڈرل بورڈ برائے فلم سرٹیفیکیشن کے نام سے قائم کیا جائے گا اور ایکٹ میں "فیڈرل گورنمنٹ" کے بجائے "متعلقہ ڈویژن" کا استعمال کیا گیا ہے۔

کمیٹی چیئرمین علی ظفر نے ترمیم کے مقصد پر سوال اٹھایا جس پر وزارت کے حکام نے وضاحت دی کہ "فیڈرل گورنمنٹ" کا مطلب کابینہ ہوتا ہے، اور ہر معاملے میں کابینہ سے منظوری لینا ایک انتظامی مسئلہ بنتا رہا ہے۔ تاہم چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ بعض اوقات کابینہ کا اختیار ایگزیکٹو خود سنبھال لیتی ہے، جس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

اجلاس کے دوران وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ اسلام آباد سے صحافی احمد نورانی، سابر شاکر، معید پیرزادہ اور محمد وحید کے خلاف ریاست مخالف بیانیے پر مقدمات درج کیے گئے جبکہ کراچی میں صحافی فرحان ملک کے خلاف کارروائی کی گئی، جو اس وقت ضمانت پر ہیں۔

صحافیوں کے خلاف مقدمات اور کارروائیوں پر کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے حکام کی سرزنش کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ناقص معلومات اور غلط بیانی ناقابل قبول ہیں اور آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔اجلاس میں راولپنڈی میں صحافی طارق ورک پر پنجاب پولیس کے مبینہ تشدد کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ متعلقہ وافسران کی غیر حاضری پر بھی وزارت داخلہ کو تنبیہ کی گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس موقع پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے تجویز دی کہ صحافیوں پر ہونے والی زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے سینیٹ ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے کہا:

"جس صحافی پر بھی زیادتی ہوئی ہے، میں غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔"قائمہ کمیٹی نے چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرلز سے صحافیوں پر ہونے والی کارروائیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !