رمڈا بائی ونڈھم ہوٹل میں فاروق قتل کیس میں غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز ملوث مقتعول کی بہین ریحانہ علی اور اس کی بہن یاسمین کا دعوای
personشہر اقتدار
اکتوبر 30, 2025
0
share
اسلام آباد ڈاکٹر ریحانہ علی اور اس کی بہن یاسمین مارچ 2022 میں اسلام آباد کے رمڈا بائی ونڈھم میں اپنے بھائی کے قتل کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محمد ارباب کے سامنے پیش ہوئیں بہنوں نے ہمیشہ دعوای کیا کہ فاروق کی سیاسی فکری سرگرمی کی وجہ سے غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز ملوث تھیں۔ 5 دن تک اس وی آئی پی مہمان کے لیے کوئی ہاؤس کیپنگ،
لانڈری یا روم سروس نہیں تھی بڑے کاروباریوں نے اپنے کمرے کے بل کا بھی مطالبہ نہیں کیا ہوٹل انڈسٹری میں ایسا نہیں سنا گیا 12 مارچ 2022 کی اولین ساعتوں میں اس کے کمرے کے باہر تین سیکیورٹی اہلکار موجود تھے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ریحانہ نے کہا کہ سیشن کورٹ میں رانا مجاہد رحیم کے ٹیڑھے فیصلے میں ہوٹل کے مالک ریاض احمد سمیت ملزمان کو غلط طریقے سے بری کر دیا گیا اس جج نے استغاثہ کے تمام ثبوتوں کو نظر انداز کر دیا جس میں براہ راست سی سی ٹی وی شواہد اور حالاتی شواہد کا مکمل سلسلہ شامل ہے۔ ان کی
بہنوں کا کہنا ہے کہ جج رانا محد رحیم جو اچانک کیس کے لیے مختص کیے گئے تھے رشوت دی گئی۔ بدقسمتی سے آج کیس کی سماعت نہیں ہوئی جس میں ہائی کورٹ کے جج نے کہا کہ وہ 19 نومبر 2025 کو کیس کی سماعت کریں گے۔