ہزارہ الیکٹرک کمپنی کی بدانتظامی عوام پر ظلم، فرضی بلنگ، اور شدید لوڈشیڈنگ نے زندگی مفلوج کر دی
personشہر اقتدار
دسمبر 01, 2025
0
share
ہزارہ الیکٹرک کمپنی نے فرضی بلوں کی مد میں کرپشن کے نئے ریکاوڈ قائم کر دیئے
ایبٹ آباد (نمائندہ خصوصی) ہزارہ الیکٹرک کمپنی کے قیام کے بعد ہزارہ بھر میں بجلی کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے کمپنی نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے انہیں نئی مصیبتوں میں مبتلا کر دیا ہےچند ہفتوں میں سامنے آنے والے سنگین معاملات نے ثابت کر دیا ہے کہ ہزارہ الیکٹرک کمپنی بدانتظامی، غیر شفاف فیصلوں اور عوام دشمن اقدامات کی واضح مثال بن چکی ہے آن لائن بل جمع کروانے کے باوجود بار بار سابقہ بل اس میں ایڈ کر کے لگانابھی فرضی بلنگ کو بے نقاب کرتا ہےبیشتر صارفین نے شکایت کی ہے کہ وہ باقاعدگی سے آن لائن بل ادا کرنے کے باوجود اگلے ماہ دوبارہ ان ہی بلوں کو سابقہ بقایاجات کے نام پر موصول کر رہے ہیںیہ عمل صارفین
کو ذہنی اذیت، مالی نقصان اور غیر قانونی دباؤ میں رکھنے کے مترادف ہےمزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے گھروں کو بھی مسلسل بل بھیجے جا رہے ہیں جو ماہِ سال سے مکمل بند ہیں، جن میں کوئی رہائش پذیر نہیںان گھروں کو 50، 60، 80 اور حالیہ مہینے 100 یونٹ تک کے بل بھیجے گئےگویا خالی گھر میں ایئرکنڈیشنر اور ہیٹر چل رہے ہوںعوام کا سوال ہےجب بجلی روزانہ14 سے 16 گھنٹے بند ہوتی ہے، تو خالی گھروں میں یونٹ کہاں سے بن رہے ہیں؟ کیا ہزارہ الیکٹرک نے نیا سائنس ایجاد کر لیا ہےہزارہ الیکٹرک کمپنی میں موجود 60 کے قریب افسران میں سے 80 فیصد پنجاب اور دیگر صوبوں سے بھرتی یا ٹرانسفر کیے گئے ہیں ہزارہ کے نوجوان، جو انجینئرنگ، ٹیکنیکل اور الیکٹریکل ڈگریوں کے حامل ہیں، نوکریوں سے محروم ہیں جبکہ کمپنی میں انہیں صرف چوتھے درجہ کی اسامیوں تک محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہےعوامی حلقوں نے اسے “بیگانہ راج” قرار دیا ہےگلیات میں لوڈشیڈنگ کی انتہاہر گھنٹے بجلی بند، پرمٹ کے نام پر روزانہ عذاب مسلط کر رکھا ہےگلیات کے عوام کا کہنا ہے کہ ہزارہ
الیکٹرک کمپنی بننے کے بعدلوڈشیڈنگ کئی گنا بڑھ گئی ہےپرمٹ کے نام پر روزانہ لمبی بندش معمول بن گئی ہےبغیر اعلان بجلی ایک گھنٹہ آتی ہے، ایک گھنٹہ جاتی ہےنہ کوئی شیڈول ہے نہ جوابدہی گلیات کے ایم این اے، ایم پی اے اور متعلقہ ادارے مکمل طور پر خاموش ہیں جبکہ عوام بدترین مشکلات میں مبتلا ہیں متاثرہ شہریوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے نیپرا کی سرکاری ایپ پر اوور بلنگ کے خلاف متعدد شکایات درج کیں مگر ان شکایات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے
عوام کا کہنا ہے کہ شکایات درج کرنے کے باوجود نہ کوئی کارروائی ہوتی ہے، نہ کسی افسر کی جانب سے رابطہ کیا جاتا ہے، نہ ہی بل درست کیے جاتے ہیں عوامی مطالبات ہزارہ ڈویژن کے عوام نیپرا، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا، کمشنر ہزارہ، اور وزارتِ توانائی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 1) تمام فرضی اور غلط بل فوری طور پر منسوخ کیے جائیں 2) بند گھروں کو بھیجے گئے بلوں کی مکمل انکوائری کی جائے 3) کمپنی کے اندرونی آڈٹ اور احتساب کا عمل شروع کیا جائے 4) ہزارہ کے نوجوانوں کو روزگار میں ترجیح دی جائے 5) گلیات کے لیے لوڈشیڈنگ کا واضح اور قابلِ عمل شیڈول جاری کیا جائے 6) بار بار کی غیر قانونی اور غیر شفاف بلنگ کا نوٹس لیا جائے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ کیا جائے 7) میٹر ریڈرز جو اپنے گھر پر بیٹھ کر غلط ریڈنگ کر رہے ہیں ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کی کی جائے اور انہیں فلفور نوکری سے برخاست کیا جائے اگر ہزارہ الیکٹرک کمپنی کی بدانتظامی اور جعلسازی کا سلسلہ نہ روکا گیا تو عوام کے احتجاجی ردعمل کا خطرہ بڑھ جائے گا ریاست ماں تب ہی کہلائے گی جب عوام کے بنیادی حقوق—خصوصاً بجلی جیسے بنیادی سہولت—کو تحفظ فراہم کیا جائے x