چیئرمین سی ڈی اے نے متاثرین اسلام آباد کے بارے میں وزیر اعظم کو مس گائیڈ کیا چیئرمین سی ڈی اے کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے، متاثرین اسلام آباد الائنس
چیئرمین سی ڈی اے نے متاثرین اسلام آباد کے بارے میں وزیر اعظم کو مس گائیڈ کیا چیئرمین سی ڈی اے کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے، متاثرین اسلام آباد الائنس
personشہر اقتدار
دسمبر 04, 2025
0
share
اسلام آباد(سٹی رپورٹر) متاثرین اسلام آباد الائنس کے نمائندگان اور ڈی 13، ای 13، ایچ 16، سی 13، سی 16 اور ای 13 کے متاثرہ اراضی و مکان مالکان نے سی ڈی اے کی جانب سے 2008 کے گوگل یا سپارکو سروے پر 2025ء کا بی یو پی ایوارڈ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے، چیئرمین سی ڈی اے نے متاثرین اسلام آباد کے بارے میں وزیر اعظم کو مس گائیڈ کیا،تین دن کے اندرمطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں متاثرین پورے شہر کو بند کرکے سڑکوں پر مستقل دھرنا دینے پر مجبور ہونگے، وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن سید ذیشان نقوی نے متاثرین کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، 2008 میں
ہونے والے سپارکو اور گوگل سروے کو نہیں مانتے ، متاثرین کو 2025 ء کے مطابق ایوارڈ دیا جائے اور انکے جو بچے 18 برس کی عمر میں پہنچ چکے ہیں انہیں بھی اس ایوارڈ میں شامل کیا جائے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےمتاثرین اسلام آباد الائنس کے نمائندگان بشارت، ملک ، ظہیر، عزیر خان، ملک غلام حسین،ملک ساجد،کا پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں راجہ عمران اشرف، سید سبط الحیدر بخاری، مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے صدر انعام الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے نے متاثرین اسلام آباد کے بارے میں وزیر اعظم کو مس گائیڈ کیا ہے، سی ڈی اے نے 2008 میں آٹھ سیکٹرز کے ایوارڈ بغیر نوٹس اور بغیر موقع کے سروے اور مالکان کی مشاورت کے بغیر سنا دیئے،اب 17 برس بعد انہی پرانےغیر موزوں ریکارڈکی بنیاد پر 2025ء کے ایوارڈ کرنا آئینی اور انسانی حقوق کی کھلم
کھلا خلاف ورزی ہے،سی ڈی اے نے تین سیکٹرز سی 13، سی 16 اور ایچ 16 میں سپارکو اور گوگل سکرین شاٹس پر انحصار کرتے ہوئے ہزاروں اصل مالکان کو ایوارڈسے نکال دیا اب یہی اقدام ای 13، ڈی 13 اور ایف 13 میں دہرایا جا رہا ہے،سی ڈی اے کی طرف سے اخبار میں دیئے گئےاخبار اشتہار کے ذریعے صرف دس دن بعد بی یو پی ایوارڈ سنانے کا اعلان کیا ہے، متاثرین اسلام آباد کے نمائندگان نے اعلان کیا کہ وہ سپارکو یا گوگل کے جعلی سروے کو نہیں مانتے اور سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اشتہار کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں،متاثرین اسلام آباد الائنس نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ 2010 ءسے قبل تمام ایوارڈ اپنی افادیت کھو چکے ہیںلہذاٰ انہیں موجودہ مارکیٹ ریٹ پر بحال کیا جائے، متاثرین کے مطابق اس بات کی وفاقی کابینہ نے بھی توثیق کی تھی تاہم سی ڈی اے نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرکے فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی پرانے ایوارڈ پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے جو کہ قانون اور انساف کے اصولوں
کے منافی ہے،متاثرین اسلام آباد الائنس کے نمائندگان نے صدر پاکستان آصف زرداری، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے کو سب سے پہلے پینڈنگ سیکٹر ای 12 کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا جائے اور پھر 2008 والی ایوارڈ کو ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق حقوق ادا کرنے کا پابند کیا جائے،2008 کے سپارکو اور گوگل سروے پر مبنی ایوارڈ کے اجراء کو فوری طور پر روکا جائے اورسیکٹرز سی 13، سی 16 اور ایچ16 کے ایوارڈ منسوخ کرکے 2025ء کے مارکیٹ ریٹ اور جدید موقع پر سروےکی بنیاد نئے ایوارڈ جاری کئے جائیں اور مالکان کو مذاکرات میں شامل کیا جائے، متاثرین الائنس نے کہا کہ وہ ریاست سے کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتے تاہم اپنے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے،اگر سی ڈی اے نے تین دن کے اندر ہمارےحقوق اور مطالبات پورے نہ کئے تو متاثرین اپنے بچوں اور خاندانوں کے ہمراہ شہر اقتدار کی سڑکوں پر مستقل دھرنا دیکرپورا شہر بند کرنے پر مجبور ہونگے جسکی تمام تر ذمہ داری ارباب اختیار پر ہو گی، قبل ازیں متاثرین نے این پی سی کے باہر شدید احتجاج کیا جس میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن سید ذیشان نقوی نے بھی شرکت کی اور متاژرین کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، 2008 میں ہونے والے سپارکو اور گوگل سروے کو نہیں مانتے ، متاثرین کو 2025 ء کے مطابق ایوارڈ دیا جائے اور انکے جو بچے 18 برس کی عمر میں پہنچ چکے ہیں انہیں بھی اس ایوارڈ میں شامل کیا جائے۔